بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع دوسہ میں دہلی ممبئی ایکسپریس وے پر ایک تیز رفتار سلیپر بس ٹریلر سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئی، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ابتدائی طور پر ڈرائیور کو اونگھ آنے اور بس کی تیز رفتاری کو ممکنہ اسباب قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق حادثہ گزشتہ شب تقریباً ڈھائی بجے پیش آیا، جب بس اتراکھنڈ کے شہر رشی کیش سے مدھیہ پردیش کے شہر اندور جا رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس تیز رفتاری کے باعث پہلے ایک ٹریلر سے ٹکرائی، جس کے فوراً بعد دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
حادثے کی منظرعام پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں گاڑیاں شعلوں کی لپیٹ میں ہیں جبکہ مسافر مدد کے لیے چیخ پکار کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بس کی بالائی برتھوں پر موجود کئی مسافر جھٹکے سے نیچے آ گرے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 5 افراد جھلسنے سے جبکہ 2 سر پر شدید چوٹیں آنے کے باعث دم توڑ گئے۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی ریاست اڑیسہ میں خوفناک ٹرین حادثہ، 300 افراد ہلاک، 900 زخمی
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت زیادہ تر مسافر سو رہے تھے، جس کی وجہ سے انہیں خود کو بچانے کا موقع نہ مل سکا۔
ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے اور متاثرہ مسافروں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کیں۔
تمام زخمیوں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، کو علاج کے لیے دوسہ کے ضلعی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا، تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بس ڈرائیور کو دورانِ سفر اونگھ آ گئی تھی، جبکہ بس کی تیز رفتاری کو بھی حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں تاخیر سے موقع پر پہنچیں، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق آگ لگنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو نکالا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں ہندو یاتریوں کی بس حادثے کا شکار، 18 افراد ہلاک
مقامی شہریوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بس کے سامان رکھنے والے حصے میں سگریٹ کے پیکٹ بڑی تعداد میں موجود تھے، جن کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔
ضلعی انتظامیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے اور زخمیوں و متاثرین کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔













