تحریک انصاف بزدل ہے، دھرنے اور لانگ مارچ سے بھاگ گئی، عطا تارڑ

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف بزدل ہے، یہ لانگ مارچ اور دھرنے سے بھاگ گئی ہے، ہمت ہے تو لانگ مارچ کے لیے آئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نعروں سے نہیں ملک کام کرنے سے چلتا ہے، جس سیاستدان کا کام بہتر ہو اسی کو ووٹ دیں، سیاست پر کام کرنا چاہیے لیکن منفی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات پر اہم پیشرفت، لانگ مارچ کے معاملے پر درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش

عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت حالات سے لاعلم ہے اور امن و امان کے حوالے سے اقدامات لینے سے گریزاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک صوبائی حکومت جس کا اپنے علاقوں میں مکمل اختیار ہے، وہ امن و امان ٹھیک کیوں نہیں کر رہی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردوں کی مکمل سہولتکاری کر رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کی جتنی سیاسی جماعتیں ہیں، دہشت گردوں نے سب پر حملے کیے، سوائے پی ٹی آئی کے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک انصاف دہشت گردوں کی منظور نظر ہے، نہ صرف وہ دہشت گردوں کی مذمت کرنے سے گریز کرتی ہے بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے بھی گریزاں ہے۔

عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردوں کی سہولتکاری کرنا تحریک انصاف کی پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم اور ٹی ٹی اے کی سی ٹیم ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت ٹی ٹی پی کی مکمل سہولتکاری کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اپنی نالائقی چھپانے کے لیے لانگ مارچ کا سہارا لے رہی ہے، وفاقی وزیر امیر مقام

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اپنے قول و فعل میں صوبے کے وزیراعلیٰ کم اور ٹی ٹی پی کے کمانڈر زیادہ نظر آتے ہیں، جب افغانستان سے کوہاٹ پر افغانستان سے ڈرون فائر ہوتے ہیں اور پاک فوج انہیں بڑی مہارت سے گراتی ہے تو آپ کو کوئی بھی مذمتی بیان یا کوئی بھی ایسا عمل خیبر پختونخوا کی حکومت سے نظر نہیں آئے گا کہ وہ اس معاملے پر کسی قسم کا کوئی اسٹینڈ لے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کرم کے اندر افغانستان کی طرف سے ایف سی اور ہمارے جوانوں پر فائرنگ کی جاتی ہے، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے یہ بھی نظر نہیں آتا کہ وہ کرم جائیں اور کہیں کہ ہم اپنے جوانوں اور اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی صورت اس طرح کی فائرنگ برداشت نہیں کریں گے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ یہ بزدلی کی علامت ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، ان کی کابینہ اور پوری تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نہ صرف بزدل ہیں بلکہ دہشت گردوں کی سہولتکار بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ دھرنوں سے بھی بھاگ گئے ہیں، ہمت ہے تو آؤ اور دھرنا دو۔ ان کی کسی قسم کی تیاری بھی نہیں ہے۔ وہ خیبرپختونخوا سے ہو کر آئے ہیں اور کسی قسم کی تیاری نظر نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: ممکنہ گرفتاریوں کا خدشہ، کیا پشاور ایک بار پھر پی ٹی آئی رہنماؤں کی پناہ گاہ بننے لگا؟

عطا تارڑ نے کہا کہ امن و امان صوبائی معاملہ ہے اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ وہاں امن و امان کو کنٹرول کرے۔ صرف اس سال 2026 میں خیبرپختونخوا میں 2,456 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں، جو روزانہ تقریباً 10 حملے بنتے ہیں۔ ان حملوں میں پولیس، فوج، رینجرز اور ایف سی کے 472 جوان اور افسران شہید ہوئے جبکہ 1,500 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی، دہشتگردی اور جرائم کا گٹھ جوڑ موجود ہے، غیر قانونی تجارت، لکڑی اور تمباکو کا کاروبار اور سونے و دیگر معدنیات کی غیر قانونی کان کنی جاری ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ یہ سب مل جل کر ہوتا ہے، ان کے سیاسی لوگ سامنے ہوتے ہیں اور غیر قانونی کان کنی اور ٹھیکوں کے ذریعے دہشتگردی کو فنڈ کیا جاتا ہے اور دہشت گردوں کی سہولتکاری کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو صوبائی حکومت دہشتگردی کو نہ روکنا چاہے، امن و امان کو بہتر نہ کرنا چاہے اور بے گناہ شہریوں کا خون بہے، اسے کسی بھی صورت دنیا کے کسی خطے میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان سے ڈرون آئے تو آپ بھاگ گئے، کرم میں فائرنگ ہوئی تو آپ بھاگ گئے، کون کھڑا ہوا؟ ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز اور جوان کھڑے ہوئے۔

عطا تارڑ نے بتایا کہ وہ ہنگو حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کی عیادت کیلئے سی ایم ایچ گئے تو اس شخص نے کہا کہ ‘ہم تو بزدل نہیں ہیں، یہ ہوں گے بزدل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، ہمیں ٹھیک کام کرنے دیں، ہم ان دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔’

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی جو کچھ کررہی ہے اس سے عمران خان کو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا، طلال چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشتگردی کی سہولتکاری کرنا، دہشت گردوں کو فروغ دینا اور امن و امان کو دانستہ طور پر ٹھیک نہ کرنا، یہ تمام چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ دہشتگردی کے فروغ میں ان کا پورا ہاتھ ہے اور بھاگنا ان کا وطیرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلے دہشت گردوں سے ہاتھ ملاتے ہیں اور دہشت گردوں کی مکمل سہولتکاری کرتے ہیں، اس کے بعد اپنے آپ کو سیاسی لوگ کہتے ہیں۔ امن و امان ٹھیک کرنا صوبے کی ذمہ داری ہے اور انہیں چاہیے کہ پولیس اصلاحات لے کر آئیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پولیس اصلاحات لانے کے بجائے صوبائی حکومت نے ایک ایسا قانون بنا دیا ہے جس کے ذریعے پولیس کو سیاسی فورس بنانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ جس طرح دہشت گردوں کی سہولتکاری کی گئی ہے، پولیس بھی سہولتکاری کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے اندر نہیں ہوسکتا۔ ہمارے شہری، جوان، افسر اور سیکیورٹی فورسز پوری طرح متحرک ہیں کہ دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا۔ پوری قوم قربانی دے رہی ہے اور جس طریقے سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، ایک دن دہشت گرد مکمل طور پر پسپا ہوں گے اور پاکستان سے ان کا مکمل خاتمہ ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے صوبائی حکومت سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کی سہولتکاری سے باز رہے اور ملک کی سالمیت کے لیے کام کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp