جب اسکواش کا ریکٹ ثنا بہادر کی آواز بن کر گونجا: خاموش آنسوؤں سے قومی چیمپیئن بننے تک کا سفر

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسکواش کورٹ کی شیشے کی دیواروں کے اندر 20 سالہ ثنا بہادر کا ریکٹ بولتا ہے جبکہ کورٹ سے باہر وہ اشاروں کی زبان اور ہونٹوں کی حرکت سمجھ کر اپنے جذبات اور بات دوسروں تک پہنچاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علی سسٹرز کی منفرد کامیابی: یو ایس ساؤتھ ایسٹ جونیئر گولڈ اسکواش سرکٹ میں دونوں بہنیں آمنے سامنے

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ثنا بہادر پیدائش سے سماعت اور گویائی سے محروم ہیں اور ان کے 2 چھوٹے بھائی بھی اسی کیفیت کے ساتھ پیدا ہوئے۔ بچپن میں ثنا کو دوسروں سے بات چیت اور اپنے جذبات کے اظہار میں مشکلات کا سامنا رہا لیکن اسکواش نے انہیں خود کو دنیا کے سامنے منوانے کا ایک طاقتور ذریعہ فراہم کردیا۔

ایشین گیمز میں ان کا پہلا سفر اگرچہ ایران کی نجمی بوشہری زادے کے ہاتھوں پہلے ہی مرحلے میں شکست کے ساتھ ختم ہوگیا لیکن آیچی ناگویا ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہی ثنا کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

ثنا کے والد شیر بہادر جو پشاور میں پرنٹنگ کا کاروبار کرتے ہیں نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی صرف ان بچوں کے لیے رول ماڈل نہیں جو سن یا بول نہیں سکتے بلکہ خاندان میں بھی اسے اس بات کی مثال سمجھا جاتا ہے کہ صلاحیت اور عزم انسان کو کہاں تک لے جاسکتے ہیں۔

ایشین گیمز کے کِنجو فُوتو ایرینا میں ثنا اپنے والد کے ساتھ بیٹھی موبائل فون پر بات چیت کررہی تھیں۔

مزید پڑھیے: اسکواش فائنل میں بہنیں مدمقابل، ماہ نور نے سحرش کو ہرادیا، والد کس کی طرف؟

شیر بہادر کے مطابق ہمارے خاندان میں اسے اس بات کی مثال سمجھا جاتا ہے کہ صلاحیت اور محنت انسان کو کہاں تک لے جاسکتی ہے۔

بیٹی کے خواب کے لیے والد کی بڑی قربانیاں

ثنا کا یہ سفر آسان نہیں رہا۔ ان کے والد نے رواں سال اپنی پرنٹنگ مشینوں میں سے 2 فروخت کردیں تاکہ بیٹی کے بیرون ملک دوروں کے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔

بیٹی کے ساتھ بیرون ملک سفر اور اس کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے باعث ان کے کاروبار میں بھی تقریباً 60 فیصد کمی آئی ہے تاہم شیر بہادر کو اس قربانی کا کوئی افسوس نہیں۔

وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں کوئی پچھتاوا نہیں کیونکہ بیٹی کی وجہ سے انہیں سفر کرنے اور دنیا کے بہترین کھلاڑیوں سے ملنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

مجھے کوئی افسوس نہیں۔ اس کی وجہ سے مجھے سفر کرنے اور بہت سے عظیم کھلاڑیوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ ہمیں اس پر بے حد فخر ہے۔

10 سال کی عمر میں اسکواش سے ناتا جڑا

ثنا نے صرف 10 سال کی عمر میں اسکواش کھیلنا شروع کیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات پاکستان کے عظیم اسکواش کھلاڑی قمر زمان سے ہوئی جنہوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

مزید پڑھیں: علی سسٹرز نے کمال کر دکھایا، تینوں بہنیں آسٹریلین جونیئر اوپن اسکواش کے سیمی فائنل میں

ثنا کے والد شیر بہادر کہتے ہیں کہ خصوصی تعلیمی اداروں میں اکثر طلبہ کو سلائی، بُنائی اور بڑھئی کے کام جیسے ہنر سکھانے تک محدود رکھا جاتا ہے۔

ان کے بقول انہوں نے سوال اٹھایا کہ بچوں کو معلوماتی ٹیکنالوجی یا کھیلوں کی طرف کیوں نہیں لایا جاسکتا؟ ان کی یہی سوچ آگے چل کر ثنا کے لیے راستہ بن گئی۔

قومی چیمپیئن بنیں تو مالی مشکلات بڑھ گئیں

ثنا کی صلاحیتیں سامنے آنے لگیں اور وہ قومی چیمپیئن بن گئیں لیکن ان کے کھیل کا معیار بلند ہونے کے ساتھ مالی مشکلات بھی بڑھتی گئیں۔

کراچی میں قائم ایک فاؤنڈیشن ثنا کو سالانہ 40 لاکھ روپے فراہم کرتی ہے لیکن ان کے والد کے مطابق بیرون ملک تربیتی دوروں اور خصوصاً چین اور ملائیشیا میں اعلیٰ سطح کی تربیت کے لیے اس سے کہیں زیادہ رقم درکار ہے۔

شیر بہادر کا کہنا ہے کہ حکومتی مدد کی بھی ایک حد ہے اور نجی شعبے سے خاطرخواہ اسپانسرشپ بھی نہیں مل سکی۔

ان کے مطابق شاید اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ ثنا بول نہیں سکتیں اور اس لیے کمپنیوں کو ٹی وی اشتہارات میں انہیں شامل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تاہم وہ اس حوالے سے کسی سے شکوہ نہیں کرتے۔

’اس نے صرف اپنی نہیں، پورے خاندان کی زندگی بدل دی‘

شیر بہادر کے مطابق اسکواش نے صرف ثنا کی زندگی ہی نہیں بدلی بلکہ پورے خاندان کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب ثنا اور ان کی والدہ اکثر روتی تھیں اور ثنا کو اپنی شناخت کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: علی سسٹرز سمیت 5 پاکستانیوں نے آسٹریلین جونیئر اوپن لوٹ لیا، 4 گولڈ اور ایک سلور میڈل ملک کے نام

لیکن آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔ شیر بہادر فخر سے کہتے ہیں کہ اب اسے دیکھیں، وہ اعتماد سے بھرپور ہے اور ان جگہوں تک پہنچ رہی ہے جہاں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ پہنچ سکے گی۔ ان کی یہ بات سن کر ثنا بھی مسکرا دیتی ہیں۔

عالمی درجہ بندی میں 179ویں نمبر پر

ثنا بہادر نے گزشتہ ماہ آسٹریلیا میں بینڈیگو اوپن ٹورنامنٹ جیتا جس کے بعد وہ عالمی درجہ بندی میں 179ویں نمبر پر پہنچ گئی ہیں۔

اب ان کا اگلا ہدف اگلے سال عالمی درجہ بندی میں ٹاپ 100 کھلاڑیوں میں شامل ہونا ہے۔

ان کے والد کا کہنا ہے کہ ثنا اس سے کہیں بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور خاندان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے سابق کوچ کے ساتھ دوبارہ تربیت شروع کریں جو اب چین منتقل ہوچکے ہیں۔

تاہم اس خواب کی تکمیل کا انحصار ایک بار پھر مالی وسائل پر ہے۔

شیر بہادر کہتے ہیں کہ اگر مالی وسائل دستیاب ہوئے تو ثنا چین جاکر اپنے سابق کوچ کے ساتھ تربیت کرسکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: اسکواش میں پاکستان کی بتدریج واپسی، حمزہ خان گولڈن اوپن چیمپیئن شپ جیت گئے

خاموشی ثنا کی زندگی کا حصہ ضرور ہے مگر اسکواش کورٹ میں ان کی ریکٹ وہ آواز بن چکی ہے جسے دنیا سن رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp