خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکمرانی، بنوں کے شہریوں کے سوالات برقرار

ہفتہ 26 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی طویل حکمرانی کے باوجود بنوں کے شہری صوبے میں تعلیم، امن و امان اور روزگار کی صورتحال پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ: خودمختاری کے دعوؤں سے وزیراعلیٰ کی تابعداری تک کا سفر

شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے تو کیے گئے لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ گزشتہ حکومتوں کے دور میں طلبہ کو مفت ملنے والی کتابیں اب کئی جگہوں پر دستیاب نہیں جبکہ بعض شہریوں کے مطابق کتابیں رقم ادا کرنے کے باوجود بھی نہیں مل رہیں۔

بنوں کے شہریوں کے مطابق صوبے میں بدامنی اور بے روزگاری کے مسائل بھی سنگین ہیں لیکن ایسے وقت میں وزیر اعلیٰ سمیت حکومتی مشینری کی توجہ لانگ مارچ اور سیاسی سرگرمیوں پر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا دہشتگردی اور آٹے کی قلت کا شکار، گورننس غائب، حکومت کی توجہ سیاست پر ہے، ثمر بلور

کوہاٹ کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے شہریوں نے شفیع جان کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیو بنانے اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس سے مذمتی بیان جاری کرنے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اسے ووٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور علاج کے لیے ملا ہے تو پھر عوام کے بنیادی مسائل، امن و امان اور روزگار جیسے معاملات کی ذمہ داری کون لے گا؟

بنوں کے شہریوں کے مطابق عوام اپنے منتخب نمائندوں سے سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم، روزگار، امن و امان اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے بھی عملی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: تبدیلی کا نعرہ ڈھونگ، نظام کی تباہی مشن، خیبرپختونخوا میں اداروں کی بربادی کی آخری اسٹیج

اب سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی کے باوجود عوام کے یہ بنیادی مسائل اب تک حل کیوں نہیں ہوئے اور اگر ہوں گے بھی تو کب؟ جانیے ان سلگتے مسائل کی تفصیل فرحت اللہ کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp