خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ: خودمختاری کے دعوؤں سے وزیراعلیٰ کی تابعداری تک کا سفر

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک وقت تھا جب خیبرپختونخوا حکومت پولیس کو غیر سیاسی کرنے کے لیے تاویلیں دیتی نہیں تھکتی تھی لیکن اب اس کی کابینہ نے یوٹرن لیتے ہوئے پولیس کو اپنے تابع کرنے کے لیے ترامیم منظور کرلی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں آئی جی سے ڈی ایس پی تک اختیارات وزیراعلیٰ کی جیب میں، کمانڈ اسٹرکچر توڑا تو پولیس کا مورال کیسے بچے گا؟ طلال چوہدری

خیبرپختونخوا میں پولیس کو سیاسی مداخلت سے دور رکھنے کے لیے بنائے گئے سال 2017 کے پولیس ایکٹ میں ایک بار پھر بڑی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ صوبائی کابینہ نے مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی ہے جن کے تحت آئی جی پولیس کے اختیارات محدود اور وزیراعلیٰ سمیت صوبائی حکومت کے اختیارات میں اضافہ ہوگا جبکہ اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں میں بھی حکومت کا کردار بڑھ جائے گا۔

صوبائی کابینہ کی جانب سے پولیس ایکٹ 2017 میں ترامیم کی منظوری 24 ستمبر کو دی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ تعینات آئی جی پولیس کی خدمات وفاق کو واپس کرنے کا فیصلہ کرسکیں جبکہ آئی جی پولیس صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کو جواب دہ ہوگا۔ موجودہ مسودے میں پولیس کے انتظامی، آپریشنل اور مالی معاملات میں بھی صوبائی حکومت کے اختیارات بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔

پولیس سے متعلق پالیسی کو آپریشنل ونگ سے الگ کرکے اسے پالیسی سازی تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے۔

مزید پڑھیے: مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026: پولیس اصلاحات یا سیاسی کنٹرول؟ مجوزہ قانون کی اہم شقوں پر سوالات

مجوزہ ترامیم کے تحت گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے تمام پولیس افسران کے تبادلوں کے لیے آئی جی پولیس کو وزیراعلیٰ سے حتمی منظوری لینا ہوگی۔ ڈویژنل سطح پر آر پی او انویسٹی گیشن کی تعیناتی بھی کی جائے گی۔

اس کے علاوہ پولیس میں 10 فیصد نئے ڈی ایس پیز تعینات کرنے، علاقائی سطح پر شکایات کے ازالے کے لیے ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی قائم کرنے اور ضلعی سطح کے پبلک سیفٹی کمیشن میں اراکینِ اسمبلی کو شامل کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں تاکہ پولیس کی نگرانی کا نظام مزید وسیع کیا جاسکے۔

پولیس ایکٹ 2017 میں کیا سقم تھا؟

24 جنوری 2017 کو پرویز خٹک کے دور حکومت میں طویل مشاورت کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی نے پولیس بل 2017 کی منظوری دی تھی۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف تھا کہ اس قانون کے ذریعے خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد اور خودمختار بنایا گیا ہے۔

پولیس ایکٹ 2017 کے تحت آئی جی پولیس کو انتظامی اور مالی معاملات میں وسیع اختیارات حاصل تھے۔ آئی جی پولیس کسی سے مشاورت کے بغیر ڈسٹرکٹ پولیس افسران، ریجنل پولیس افسران اور دیگر افسران کی تعیناتی یا تبادلے کرسکتا تھا۔

مزید پڑھیں: مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026: پولیس اصلاحات یا سیاسی کنٹرول؟ مجوزہ قانون کی اہم شقوں پر سوالات

قانون کے تحت پولیس افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے معاملے میں آئی جی پولیس وزیراعلیٰ کی ہدایات کا پابند نہیں تھا جس کا مقصد پولیس کے روزمرہ انتظامی اور آپریشنل معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنا تھا۔

پی ٹی آئی حکومت نے پولیس ایکٹ میں دوبارہ تبدیلی کیوں کی؟

سنہ 2017 کے پولیس ایکٹ کی منظوری کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے خیبرپختونخوا پولیس کی غیر سیاسی اور خودمختار حیثیت کو اپنی حکومت کی اہم اصلاحات میں شمار کیا جاتا رہا۔

تاہم جنوری 2023 میں خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور بعد ازاں 9 مئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کے تناظر میں پولیس کے کردار اور اختیارات کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گیا۔

اسی پس منظر میں 21 اکتوبر 2024 کو پولیس ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی جن کے تحت اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں میں وزیراعلیٰ کا کردار بڑھایا گیا اور آئی جی پولیس کو حکومت سے مشاورت کا پابند کیا گیا۔

تاہم ان ترامیم کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ فروری 2026 میں پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کی متعلقہ شقیں کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے افسران کی تعیناتی کو وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا پولیس کی آپریشنل خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے آئی جی پولیس کے فیلڈ افسران کی تعیناتی سے متعلق اختیارات بھی بحال کردیے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا حکومت کا پولیس ایکٹ پر بڑا یو ٹرن، پولیس کے اختیارات واپس وزیراعلیٰ کو دینے کی ترامیم کی منظوری

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ انتظامیہ کی نگرانی وسیع پالیسی رہنمائی اور نگرانی تک محدود ہونی چاہیے جبکہ پولیس کی روزمرہ انتظامیہ، تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار آئی جی پولیس کے پاس ہونا چاہیے تاکہ کمانڈ کا نظام برقرار رہے۔

پولیس ایکٹ میں نئی ترامیم سے اب کیا ہوگا؟

خیبرپختونخوا کابینہ کی 24 ستمبر 2026 کو منظوری کے بعد مجوزہ پولیس ایکٹ 2026ء کو مزید قانون سازی کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق نئے قانون میں آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی، تبادلوں اور پولیس کے انتظامی و مالی معاملات میں صوبائی حکومت کے اختیارات بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔

مسودے کے مطابق وفاقی حکومت آئی جی پولیس کی تعیناتی کے لیے 3 افسران پر مشتمل پینل صوبائی حکومت کو بھجوائے گی جبکہ صوبائی حکومت کو اس پینل میں سے کسی ایک افسر کے انتخاب یا پورے پینل کو مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

مزید پڑھیں: تبدیلی کا نعرہ ڈھونگ، نظام کی تباہی مشن، خیبرپختونخوا میں اداروں کی بربادی کی آخری اسٹیج

کابینہ سے منظوری کے بعد اب یہ مسودہ صوبائی اسمبلی کے سامنے جائے گا۔ اسمبلی سے منظوری کی صورت میں اسے گورنر خیبرپختونخوا کو بھیجا جائے گا۔

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مجوزہ پولیس ایکٹ پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ترمیم شدہ قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

بعض وکلا کے مطابق اگر نئی ترامیم صوبائی اسمبلی سے منظور ہوجاتی ہیں تو انہیں عدالت میں بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ تاہم عدالت میں اس قانون کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات میں اس کی آئینی حیثیت اور صوبائی و وفاقی اختیارات سے متعلق سوالات اہم ہوں گے۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا دہشتگردی اور آٹے کی قلت کا شکار، گورننس غائب، حکومت کی توجہ سیاست پر ہے، ثمر بلور

یوں خیبرپختونخوا میں پولیس کی خودمختاری، صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات اور پولیس کمانڈ اسٹرکچر کے درمیان توازن ایک بار پھر قانونی اور سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp