معروف ٹی وی میزبان نادیہ خان کو مارننگ شو میں کامیاب فیشن ڈیزائنر پریشے عدنان کی عالمی کامیابیوں کو نظر انداز کر کے ان کے جم کے لباس پر غیر ضروری سوالات اٹھانے پر شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔
View this post on Instagram
عامر عدنان فیشن ہاؤس کی سی ای او پریشے عدنان حال ہی میں نیویارک فیشن ویک میں اپنا شو کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس لوٹی ہیں۔ اس شاندار کامیابی پر بات کرنے کے لیے انہیں نادیہ خان کے شو ’رائز اینڈ شائن‘ میں مدعو کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:علی انصاری نے نادیہ خان کی تنقید کے سیاق و سباق سے ہٹ کر کلپس شیئر کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا
تاہم انٹرویو کے دوران میزبان نادیہ خان نے ڈیزائنر کی عالمی کامیابیوں پر بات کرنے کے بجائے ان کے جم جانے کے لباس پر سوالات شروع کر دیے۔
View this post on Instagram
نادیہ خان نے پوچھا کہ کیا ان کے والدین انہیں اس طرح کا لباس پہننے کی اجازت دیتے ہیں۔ اسی دوران معاون میزبان زوہیب حسن نے بھی ان کی جسامت پر نامناسب تبصرہ کیا، جس کا جواب ڈیزائنر نے ایک الگ ویڈیو میں دیا۔
سوشل میڈیا کریئیٹرز کا سخت ردعمل
اس واقعے کے بعد انٹرنیٹ پر نادیہ خان کے خلاف تنقید کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ خود پریشے نے شو کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان کے چہرے پر میزبان کے سوالات سے ہونے والی الجھن واضح تھی۔
انفلوئنسر زویا زیدی نے نادیہ خان کی نقل اتارتے ہوئے والدین اور معاشرے سے متعلق ان کے متضاد بیانات کو طنز کا نشانہ بنایا۔
View this post on Instagram
دوسری جانب عائشہ یوسف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ میزبان کے پاس کیریئر اور جدوجہد پر پوچھنے کے لیے بہت کچھ تھا، لیکن انہوں نے صرف کپڑوں اور ’لوگ کیا کہیں گے‘ کی ذہنیت پر توجہ مرکوز رکھی۔
کمبلوں سے ڈمبلوں تک
معروف کامیڈین رمشا وسیم نے ایک دلچسپ ویڈیو بنائی جس میں وہ نادیہ خان کی پی آر مینیجر بن کر انہیں مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ معافی مانگنے کے بجائے اسے معاشرے کی اقدار کا دفاع قرار دیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے اپنے کیپشن میں لکھا کہ ایک پاکستانی خاتون کتنی ہی کامیاب کیوں نہ ہو جائے، اسے ہمیشہ اس کے کپڑوں اور عمر تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:’فلرز نے ایشوریہ اور کترینہ کی قدرتی خوبصورتی چھین لی‘، نادیہ خان نے یہ بات کیوں کہی؟
يشال شاہد نے اس صورتحال کا ایک انوکھا اور مزاحیہ حل پیش کیا۔ انہوں نے کمبل اوڑھ کر وزن اٹھانے کی ویڈیو شیئر کی اور اسے ’کمبلوں سے ڈمبلوں تک‘ کا نام دیا، تاکہ خواتین کو قومی ٹیلی ویژن پر لباس کے حوالے سے سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
View this post on Instagram
صحافتی اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس رویے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا جا رہا ہے۔ نادیہ خان، جو 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک کامیاب کیریئر رکھتی ہیں، ان کی جانب سے ایک اور کامیاب خاتون کی پذیرائی کے بجائے ان کے ذاتی فیصلوں پر تنقید کرنا مایوس کن ہے۔
خواتین کے ساتھ مختلف سلوک روا رکھنا اور فیشن انڈسٹری کی کامیابی کا جشن منانے کے بجائے ذاتی پہناوے پر سوال اٹھانا ایک ایسا عمل ہے جو خواتین کو عوامی سطح پر خود اعتمادی سے آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔














