بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین کے لیے مفت سم حاصل کرنے کا طریقہ جاری

ہفتہ 26 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی ) نے مستحق خواتین کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے مفت سم کے حصول کا باضابطہ اورمحفوظ طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ خواتین یہ سم کسی فرنچائز یا دکاندار کے بجائے صرف سرکاری دفاتر سے ہی حاصل کریں۔

’بی آئی ایس پی‘ کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی جانب سے مستحق خواتین کی سہولت اور رہنمائی کے لیے ایک خصوصی معلوماتی پیغام جاری کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بی آئی ایس پی سے متعلق رانا ثنااللہ کا بیان، پیپلز پارٹی نے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا

ترجمان کے مطابق، مستحق خواتین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی مفت سم کے حصول کے لیے اپنے قریبی ’بی آئی ایس پی‘ دفتر سے رجوع کریں۔

اس عمل کو باآسانی مکمل کرنے کے لیے خواتین کے پاس اپنا اصل قومی شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے سخت انتباہ

انتظامیہ نے جعل سازی اور فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر مستحقین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص سے ہرگز رابطہ نہ کریں۔

خواتین کو سختی سے منع کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی فرنچائز، ریٹیلر یا کسی غیر مجاز نمائندے سے یہ سم وصول یا ایکٹیویٹ نہ کروائیں۔

سم کی فراہمی اور ایکٹیویشن کا تمام تر عمل صرف اور صرف ’بی آئی ایس پی‘ کے قائم کردہ سرکاری دفاتر میں ہی سرانجام دیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی خرد برد سے بچا جا سکے۔

مزید پڑھیں:بی آئی ایس پی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، آپس کی تقسیم کے بجائے دنیا سے مقابلہ کرنا ہوگا، بلاول بھٹو

واضح رہے کہ سال 2008 میں شروع کیا جانے والا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام حکومت پاکستان کا ایک انتہائی اہم سماجی فلاحی منصوبہ ہے، جو لاکھوں غریب اور نادار خاندانوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانے اور مستحقین تک رقوم کی براہ راست اور محفوظ ترسیل کے لیے مفت سمز کی فراہمی کا یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

 اس اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں مڈل مین یا جعل سازوں کی لوٹ مار سے مکمل طور پر محفوظ رکھنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp