افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سفارتی، سیاسی اور قبائلی سطح پر متعدد کوششیں کیں، تاہم مسلسل حملوں اور مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا، تاہم ان کوششوں کے باوجود پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ پاکستان نے متعدد مذاکرات، ثالثی اور سفارتی رابطوں کے بعد افغانستان میں دہشت گر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک نے افغانستان میں اپنے سفارتخانے بند کردیے تھے، تاہم پاکستان نے اپنا سفارتی مشن کھلا رکھا۔ پاکستان نے 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کی اور افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے دوران پھنسے افراد کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کے زیر کنٹرول 10 مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کردیے، عطا اللہ تارڑ
افغانستان کے مستقبل سے متعلق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونے والی کانفرنسوں میں پاکستان نے افغان اثاثوں کے منجمد کیے جانے کے خلاف آواز اٹھائی اور تقریباً 9 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم سمیت علاقائی فورمز پر بھی اس معاملے کو اٹھایا، تاہم حکومت نے افغانستان کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
پاکستان نے طالبان حکومت کو دہشتگردوں کی سرپرستی روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذہبی، قبائلی اور سرکاری سطح پر متعدد کوششیں کیں۔ جولائی 2022 میں مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں 8 رکنی علمائے کرام کے وفد نے کابل کا دورہ کیا، جہاں طالبان قیادت کو ٹی ٹی پی کی میزبانی ختم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔ چند روز بعد 17 رکنی قبائلی جرگے نے بھی یہی پیغام طالبان قیادت تک پہنچایا۔
22 فروری 2023 کو وزیر دفاع خواجہ آصف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد نے کابل کا دورہ کیا، جبکہ جولائی 2024 میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی تعاون کے لیے ایک اور وفد کی قیادت کی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، ایئر ڈیفنس نے تمام مار گرائے
پاکستان نے سفارتی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ 2025 کے اختتام تک پاکستان کی جانب سے 4 وزرائے خارجہ کے دورے، وزیر دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی کے 2 مشنز، خصوصی نمائندے کے 5 دورے، سیکریٹری سطح کے 5 اجلاس، قومی سلامتی کے مشیر کا ایک دورہ، مشترکہ رابطہ کمیٹی کے 8 اجلاس، سرحدی پرچم ملاقاتوں کے 225 اجلاس، 836 احتجاجی مراسلے اور 13 ڈیمارش کیے جاچکے تھے۔
پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے منسلک 60 سے زائد دہشتگرد کیمپوں، تربیتی مراکز اور رسدی سہولتوں کی نشاندہی بھی کی، تاہم طالبان حکومت نے ان ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کوئی قابل تصدیق کارروائی نہیں کی۔
پاکستان کی سفارتکاری میں تجارتی تعاون بھی شامل تھا۔ خصوصی نمائندے محمد صادق کی کوششوں سے ابتدائی تجارتی پروگرام (ای ایچ پی) طے پایا، جس کے تحت دونوں ممالک کے فائدے کے لیے 8 اہم زرعی اشیا پر محصولات میں کمی کی گئی۔
اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں کی شدید ترین جھڑپوں کے بعد پاکستان نے قطر کی ثالثی میں جنگ بندی قبول کی اور دوحہ اور استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں بھی شرکت کی، تاہم کوئی پائیدار معاہدہ نہ ہوسکا۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ خودکش حملہ: افغان طالبان کی مذمت کافی نہیں، دہشتگردی کا ذکر نہ کرنا افسوسناک ہے، پاکستان
فروری 2026 میں سعودی عرب نے افغانستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی پناہ گاہوں کا معاملہ حل کرانے کے لیے ثالثی کی کوشش کی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد بھی پاکستان نے اپریل 2026 میں چین کی ثالثی میں ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی۔
پاکستان کے مطالبات میں ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم قرار دینا، اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا اور اس حوالے سے قابل تصدیق ثبوت فراہم کرنا شامل تھا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باوجود ملک میں دہشتگرد حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ 2021 میں 89، 2022 میں 262، 2023 میں 306، 2024 میں 521 اور 2025 میں 699 دہشتگرد حملے ہوئے۔ 2025 میں ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1,378 افراد شہید اور 2,672 زخمی ہوئے۔
2026 میں ستمبر تک دہشتگردی کے واقعات میں 1,327 پاکستانی شہید اور 2,484 زخمی ہوچکے تھے۔ مضمون کے مطابق یہ پاکستان کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال بن چکا ہے۔
مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ 4 روزہ جنگ کے دوران افغانستان سے ٹی ٹی پی کے 40 رکنی دستے کی پاکستان کے مغربی محاذ پر حملے کے لیے بھیج گیا، پاکستان بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کر رہا تھا تو افغانستان سے آنے والے اس دستے نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی۔
افغان طالبان سے منسلک خاندانوں کے افراد کی دہشتگرد تنظیموں میں موجودگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ 30 اور 31 جنوری 2025 کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سیکیورٹی آپریشن کے دوران بدرالدین یوسف مارا گیا، جو طالبان حکومت کے صوبہ بادغیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد محمدی کا بیٹا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کا دعویٰ جھوٹا، دونوں کا گٹھ جوڑ برقرار
بعد ازاں اسے بادغیس کے علاقے بالا مرغاب میں دفن کیا گیا، یہ واقعہ طالبان حکومت سے وابستہ حلقوں اور پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔
بعض سرحد پار دراندازی کرنے والے گروہوں میں افغان شہریوں کی تعداد تقریباً 70 فیصد تک ہے۔ پاکستان میں مارے جانے والے دہشتگردوں میں افغان شہریوں کی موجودگی، ان کے افغان پتے، خاندانوں اور تنظیمی وابستگیوں کی تصدیق کو افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے ان کے تعلق کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں سرحد پار دہشتگردی میں ملوث 260 افغان شہریوں کی شناخت کی جاچکی ہے۔ ان کے نام، افغان پتے، خاندان اور وابستگیوں کی تفصیلات کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ ان کے آبائی علاقوں میں تدفین سے بھی ان کی افغان شناخت کی مزید تصدیق ہوئی ہے۔ ان افراد کے جنازوں میں طالبان حکومت کے عہدیداروں کی شرکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ 260 افغان شہریوں کی تعداد مکمل نہیں، کیونکہ اس میں صرف ان دہشتگردوں کو شامل کیا گیا ہے جن کی افغان شناخت اور ذاتی تفصیلات کی حتمی تصدیق ہوسکی۔ نامعلوم لاشیں، ناقابل شناخت افراد اور دہشت گرد تنظیموں میں اب بھی سرگرم افغان شہری اس تعداد میں شامل نہیں ہیں۔
بدرالدین یوسف کا معاملہ بھی اسی وسیع تر رجحان کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت صرف عام افغان شہریوں تک محدود نہیں بلکہ طالبان حکومت سے وابستہ خاندانوں کے افراد بھی پاکستان پر حملے کرنے والے گروہوں میں شامل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹی پی دہشتگرد افغان طالبان کے فعال تعاون سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، اقوام متحدہ
18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ کی ایک مسجد میں خودکش حملے کے بعد 8 مسلح افراد نے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا۔ 20 گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکار تھے، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اس کے چند روز بعد ہنگو میں جھڑپوں کے دوران 6 پاکستانی سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوگئے۔
ان حملوں کا ذمہ دار ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروہوں گروہ ہیں، ہ یہ گروہ افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی کہا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف 2 درجن سے زائد دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔
پاکستان نے 21 ستمبر کو افغانستان میں دہشتگردوں کے 3 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں 28 دہشت گرد مارے گئے۔ مضمون کے مطابق یہ کارروائیاں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان کا ہدف صرف افغانستان میں موجود دہشت گرد تھے۔
اس کے جواب میں طالبان فورسز نے کوہاٹ اور طورخم کی جانب 8 ڈرون بھیجے اور پاکستانی سرحدی چوکیوں پر گولہ باری کی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ڈرونز کو ناکارہ بنایا اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 24 ستمبر کو ڈرون حملوں کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات کو نشانہ بنایا۔ مضمون میں ان کارروائیوں کو محدود، متناسب اور مخصوص فوجی اہداف تک محدود قرار دیا گیا ہے۔
اکتوبر 2025 میں بھی جھڑپیں ہوئیں، جب اورکزئی میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کے دوران لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت 11 فوجی اہلکار شہید ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق رویہ ایک بار پھر سوالات کی زد میں، مائیکل کوگلمین بول پڑے
اس کے بعد شدت پسندوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ اسکول پر حملہ کیا، جس میں 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ بعد ازاں سرحد پار سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا، جس کے دوران پاکستان کے 23 فوجی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 200 سے زائد طالبان اور ان کے اتحادی جنگجو مارے گئے۔
ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن کے حالیہ دورہ افغانستان کے دوران بھی سفارتی کوششوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کابل میں طالبان وزرا نے واضح کیا کہ اہم معاملات پر فیصلے قندھار میں کیے جاتے ہیں، جہاں قندھاری شوریٰ کو اختیار حاصل ہے۔ اس کے بعد ابراہیم قالن کو قندھار جانے کی ہدایت کی گئی۔
تاہم طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے آخری وقت میں اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ مغربی ہیں، انہیں میرے دفتر میں نہ لاؤ۔’ اس کے بعد قندھار کے حکام نے گورنر ملا شیریں سے ملاقات کا انتظام ملا عمر مسجد میں کیا، جو ایک اعلیٰ غیر ملکی عہدیدار کی میزبانی کے لیے غیر معمولی مقام تھا۔
افغانستان میں دہشتگردوں کو پناہ اور کارروائیوں کے لیے جگہ فراہم کی جاتی ہے، ٹی ٹی پی پاکستان پر حملے کرتی ہے، پاکستان سفارتی کوششیں کرتا ہے، طالبان حکومت مسئلے سے انکار کرتی ہے اور حملے جاری رہتے ہیں۔ جب پاکستان دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے تو طالبان حکومت ان کے دفاع کے لیے سامنے آجاتی ہے۔
پاکستان نے سفارتی راستے اختیار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مذاکرات، ثالثی، تجارتی تعاون، مذہبی اور قبائلی رہنماؤں کے ذریعے رابطوں اور عالمی فورمز پر معاملہ اٹھانے کے باوجود ٹی ٹی پی کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ پورا نہیں ہوا۔
پاکستان کا بنیادی مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے اور اگر سفارتی یقین دہانیوں کے باوجود حملے جاری رہیں تو پاکستان کو دہشتگردی کے ان ذرائع کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے۔














