کیا AI استاد سے آگے نکل گیا؟ ہارورڈ کے تجربے کے حیران کن نتائج نے سب کو چونکا دیا

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہارورڈ یونیورسٹی میں 194 طلبہ پر کیے گئے ایک تجربے کے ابتدائی نتائج نے تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ کردار کو اجاگر کردیا۔

ہارورڈ گزٹ کی ستمبر 2024 کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی میں کیے گئے ایک تجربے کے دوران خصوصی طور پر تیار کردہ AI ٹیوٹر استعمال کرنے والے طلبہ نے روایتی فعال تدریسی کلاس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ سیکھنے کے فوائد حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی جعلی جنگلی حیات، سوشل میڈیا پر کروڑوں آنکھوں کو دھوکا دینے لگی

یہ تحقیق ہارورڈ کے لیکچررز گریگوری کیسٹن اور کیلی ملر کی سربراہی میں کی گئی، جس میں فزیکل سائنسز 2 کورس کے 194 طلبہ نے حصہ لیا۔ یہ کورس بالخصوص لائف سائنسز کے طلبہ کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

تجربے کے دوران طلبہ کو دو مختلف تدریسی طریقوں سے گزارا گیا۔ ایک ہفتے میں ایک گروپ نے استاد کی رہنمائی میں فعال تدریسی کلاس میں حصہ لیا جبکہ دوسرے گروپ نے گھر پر AI ٹیوٹر کے ساتھ سبق مکمل کیا۔ اگلے ہفتے دونوں گروپس نے اپنا طریقہ تبدیل کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: کتابی بوجھ 25 فیصد کم، اے آئی نصاب اور اساتذہ کی مینٹل ہیلتھ ٹریننگ کا فیصلہ

محققین نے طلبہ کی کارکردگی جانچنے کے لیے سبق سے قبل اور بعد میں ٹیسٹ لیے جبکہ ان کی دلچسپی، سیکھنے کے عمل سے لطف اندوز ہونے، حوصلہ افزائی اور اپنی صلاحیتوں میں بہتری کے احساس کا بھی جائزہ لیا۔

ابتدائی تجزیے کے مطابق AI ٹیوٹر استعمال کرنے والے طلبہ کی سیکھنے کی شرح کلاس روم میں فعال تدریس حاصل کرنے والے طلبہ کے مقابلے میں تقریباً دو گنا رہی۔ AI کے ساتھ پڑھنے والے طلبہ نے زیادہ دلچسپی اور حوصلہ افزائی کا بھی اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: 16 ہزار سے زائد بار درخواستیں، اوپن اے آئی ایجنٹس کی اقوام متحدہ تک رسائی کی کوشش

محققین کے مطابق اس تجربے کی خاص بات یہ تھی کہ AI ٹیوٹر کا موازنہ کسی روایتی لیکچر سے نہیں بلکہ پہلے سے مؤثر سمجھے جانے والے فعال تدریسی طریقہ کار سے کیا گیا تھا۔

ہارورڈ کے تجربے میں طلبہ کو محض چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا بلکہ محققین نے ایک خصوصی AI ٹیوٹر تیار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آپ شاپنگ کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر کتنا بھروسہ کر سکتے ہیں، تحقیق کیا بتاتی ہے؟

گریگوری کیسٹن اور کیلی ملر نے AI کو ایک تجربہ کار استاد کے انداز میں طلبہ کی رہنمائی کرنے کے لیے تفصیلی ہدایات فراہم کیں۔ اس نظام میں پہلے سے جانچے گئے مکالمے، مخصوص تعلیمی مواد اور منظم فیڈ بیک شامل تھا۔

محققین کے خیال میں ذاتی نوعیت کا فیڈ بیک اور طلبہ کو اپنی رفتار سے سیکھنے کی سہولت اس تجربے کی کامیابی میں اہم عوامل تھے۔

AI ٹیوٹر کے ذریعے کسی تصور کو پہلے سے سمجھنے والا طالب علم تیزی سے آگے بڑھ سکتا تھا جبکہ مشکل کا سامنا کرنے والے طلبہ کو سوالات پوچھنے اور کسی مسئلے کو سمجھنے کے لیے اضافی وقت میسر آتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ایجنٹ ’میوز‘ کو اسپاٹیفائی تک رسائی، موسیقی گفتگو کے ذریعے کنٹرول ہوگی

محققین نے واضح کیا کہ AI کا مقصد اساتذہ کی جگہ لینا نہیں بلکہ تعلیمی عمل کو مزید مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔گریگوری کیسٹن کے مطابق AI کا استعمال سیکھنے کے عمل کو بہتر بھی بنا سکتا ہے اور اسے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بنیادی مقصد طلبہ میں تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہونا چاہیے، نہ کہ AI کو ان کی جگہ سوچنے کا موقع دینا۔

یہ بھی پڑھیں: پوپ لیو کا اے آئی کے حوالے سے عالمی اخلاقی نگرانی کا مطالبہ، تباہی سے خبردار کر دیا

ہارورڈ میں اس ٹیکنالوجی کو دیگر مضامین میں بھی آزمانے کی تیاری کی جا رہی تھی، جن میں ملٹی ویری ایبل کیلکولس بھی شامل ہے۔

محققین کے مطابق اس تجربے سے یہ امکان سامنے آیا ہے کہ اگر AI ٹیوٹر کو ماہر اساتذہ کی رہنمائی، واضح تعلیمی اہداف اور منظم فیڈ بیک کے ساتھ تیار کیا جائے تو یہ طلبہ کو سیکھنے کے عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp