4 اکتوبر کو بھی مارچ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ خود کو بے اختیار سمجھتے ہیں تو استعفیٰ دیں: گورنر خیبر پختونخوا

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے سنگین حالات ہیں، لوگ لاشیں اٹھا رہے ہیں، ایسے حالات میں سیاسی مارچ کی کوئی گنجائش نہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے 4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ کے حوالے سے کہا کہ ’ان لوگوں میں مارچ کرنے کی ہمت نہیں، مارچ 4 اکتوبر کو بھی نہیں ہوگا۔‘

گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے اور یہاں لوگ لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر بھی اظہارِ افسوس کیا۔

یہ بھی پڑھیے 4 اکتوبر کا مارچ موخر کردیا جائے؟ پی ٹی آئی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی

دہشتگردی کے حوالے سے گورنر نے افغانستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی افغانستان سے آ رہی ہے اور افغانستان بھارت اور اسرائیل کا سہولت کار بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں افغانستان کے ساتھ سرحد کیسے کھولی جاسکتی ہے؟

گورنر نے کہا کہ اسمبلی میں ڈرون حملوں کے خلاف قراردادیں تو پیش کی جاتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کبھی جوانوں کی شہادتوں کے خلاف بھی قرارداد پیش کی گئی ہے؟

گورنر راج کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے تو اسے ختم کیا جائے۔ صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کی جانب سے حکم ملنے کی صورت میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے حالات سازگار نہیں، لانگ مارچ کا فیصلہ فوری مؤخر کریں، شوکت یوسفزئی کا پی ٹی آئی قیادت کو خط

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بارے میں گورنر نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خود کو اتنا کمزور سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اختیار ہم نے نہیں دیا، بلکہ ان کی اپنی پارٹی نے انہیں وزیراعلیٰ بنا کر اختیار دیا ہے۔

گورنر نے کہا کہ صوبے کے مسائل کے حل اور ترقی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp