گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے سنگین حالات ہیں، لوگ لاشیں اٹھا رہے ہیں، ایسے حالات میں سیاسی مارچ کی کوئی گنجائش نہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے 4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ کے حوالے سے کہا کہ ’ان لوگوں میں مارچ کرنے کی ہمت نہیں، مارچ 4 اکتوبر کو بھی نہیں ہوگا۔‘
گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے اور یہاں لوگ لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر بھی اظہارِ افسوس کیا۔
یہ بھی پڑھیے 4 اکتوبر کا مارچ موخر کردیا جائے؟ پی ٹی آئی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی
دہشتگردی کے حوالے سے گورنر نے افغانستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی افغانستان سے آ رہی ہے اور افغانستان بھارت اور اسرائیل کا سہولت کار بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں افغانستان کے ساتھ سرحد کیسے کھولی جاسکتی ہے؟
یہ میڈیا پر آکر بڑھکیں مارتے ہیں، یہ لانگ مارچ کرہی نہیں سکتے، یہ مارچ 4 اکتوبر کو بھی نہیں ہو گا۔ ہم لاشیں اٹھا رہے ہیں اور ان کو پڑی ہے کہ ہم نے جا کر اسلام آباد میں لاشیں گرانی ہیں لیکن میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ صوابی کراس کر کے دکھائیں، فیصل کریم کُنڈی@fkkundi pic.twitter.com/veuB1Dwl0t
— WE News (@WENewsPk) September 29, 2026
گورنر نے کہا کہ اسمبلی میں ڈرون حملوں کے خلاف قراردادیں تو پیش کی جاتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کبھی جوانوں کی شہادتوں کے خلاف بھی قرارداد پیش کی گئی ہے؟
گورنر راج کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے تو اسے ختم کیا جائے۔ صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کی جانب سے حکم ملنے کی صورت میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے حالات سازگار نہیں، لانگ مارچ کا فیصلہ فوری مؤخر کریں، شوکت یوسفزئی کا پی ٹی آئی قیادت کو خط
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بارے میں گورنر نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خود کو اتنا کمزور سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اختیار ہم نے نہیں دیا، بلکہ ان کی اپنی پارٹی نے انہیں وزیراعلیٰ بنا کر اختیار دیا ہے۔
گورنر نے کہا کہ صوبے کے مسائل کے حل اور ترقی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔














