حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں مثبت پیشرفت، مزید آگے بڑھنے کے لیے بات چیت کل دوپہر تک ملتوی

جمعہ 2 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بات چیت جاری رکھنے کے مثبت روّیے کے ساتھ بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے۔ دونوں فریقین نے سیاسی بحران کے حل اور افہام و تفہیم کے لیے ہفتے کی دوپہر 2 بجے دوبارہ بیٹھک پر اتفاق کیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کا مقصد ملک میں جاری سیاسی بحران کو کم کرنا تھا۔
فریقین کے درمیان تنازع کا تازہ ترین نقطہ پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کا وہ احتجاجی مارچ ہے جس میں پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب سے گڈز ٹرانسپورٹرز کے مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک حکومت کو وقت دے دیا گیا

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق وفود نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے اور تحمل کے جذبے سے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت بھی کی ہے جس اگلہ دور ہفتہ کے روز دوپہر 2 بجے پھر شروع ہوگا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ ٹیم نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قومی مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طے پایا ہے کہ اسپیکر چیمبر میں بات چیت کا اگلا یعنی دوسرا دور ہفتے کی دوپہر 2 بجے ہوگا، جس میں تحریک انصاف باضابطہ طور پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرے گی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے مجموعی طور پر 3 دور ہوں گے جس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔

اچھے ماحول میں بات چیت اور لچک کی اپیل

اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اجلاس کے بعد بتایا کہ اچھے ماحول میں بات چیت چلی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ معاملات بہتری کی طرف جائیں گے۔

تاہم ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لچک دکھائے اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرے۔

حکومتی ٹیم نے واضح کیا کہ احتجاج اور لانگ مارچ کسی مسئلے کا حل نہیں ہیں، اس لیے لانگ مارچ کا فیصلہ واپس لینے کا باضابطہ مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی رہائی، ہاؤس اریسٹ یا منتقلی پر حکومت سے کوئی بات نہیں ہوئی، بیرسٹر گوہر

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکراتی ٹیم نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور سہیل آفریدی کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے اور امن و امان کی مخدوش صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے۔

ابھی تو مذاکرات کا آغاز ہوا ہے ، اللہ کرے کہ مذاکرات کا نتیجہ آج ہی نکل آئے اس سے تو اچھی اور کوئی چیز نہیں۔عامر ڈوگر(رہنما پی ٹی آئی ) کی مذاکرات کے پہلے وقفے میں وی نیوز سے گفتگو pic.twitter.com/rKv3gcmg2a

وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ

بات چیت میں وقفے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جس کے بعد حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسپیکر کا ثالثی کردار

وفود کی آمد پر اسپیکر ایاز صادق نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفتر مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ کھلا ہے اور اختلافات دور کرنے کا واحد راستہ پارلیمنٹ ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ عہدے اور دفاتر عارضی ہوتے ہیں، اس لیے اپوزیشن کو مسلسل بات چیت میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔

اپوزیشن کی شرائط اور سخت وارننگ

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے مذاکرات کے وقفے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ ‘دیانتداری’ سے بات چیت کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے بڑے مسائل اور جنگوں کا حل نکل سکتا ہے لیکن اس کا انحصار حکومت کی نیت پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک کوئی حل تلاش نہیں کیا جاتا، لانگ مارچ کی کال ’برقرار‘رہے گی۔

چونکہ پی ٹی آئی مارچ کے لیے پرعزم ہے، وفاقی وزرا نے بھی متنبہ کیا تھا کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر مرکز کے پاس خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

مذاکراتی عمل اور شرکاء

ایکس پر جاری ایک بیان میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے بھی تصدیق کی کہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

ایک روز قبل ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور محسن نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کا اجلاس ہوا تھا جس میں پیپلز پارٹی اور حکومت کا مشترکہ وفد تشکیل دیا گیا۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ‘آف دی ریکارڈ’ مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج ملتوی نہ کیا تو حکومت کے پاس انہیں روکنے کے مکمل انتظامات ہیں۔

اجلاس میں حکومتی اتحاد کی جانب سے امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، طلال چوہدری، طارق فضل چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے شرکت کی۔

دوسری جانب اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ نے کی۔

حکومت کی جانب سے مثبت پیشرفت ہوئی تو مثبت جواب دیں گے، عامر ڈوگر

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا، پارلیمنٹ ہاؤس میں دونوں فریقین کے وفود کی ملاقات جاری ہے۔

مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہو رہے ہیں، جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی رہنما شریک ہیں۔

اپوزیشن وفد میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، علامہ راجا ناصر عباس، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سلمان اکرم راجا، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی گزشتہ روز ملاقات میں پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں مذکورہ حکومتی و اتحادی رہنما شامل ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے مزید کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات معنی خیز ہوں، حکومت کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت ہوئی تو ہم بھی ان شاء اللہ مثبت جواب دیں گے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پہلے حکومت کو سنیں گے، اس کے بعد اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔ لانگ مارچ کا ہونا یا نہ ہونا حکومت کی نیت پر منحصر ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو کہیں سے بھی ریلیف نہیں ملا، نہ سپریم کورٹ سے، نہ ہائی کورٹ سے اور نہ ہی پارلیمان سے، تاہم آج خلوص کے ساتھ حکومتی وفد سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے لیے کوئی پیشگی شرط نہیں رکھی، حکومت کا مؤقف سننے کے بعد اپنے مطالبات سامنے رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے، مسائل کا حل چاہتی ہے اور پی ٹی آئی کے ساتھ انصاف ہوسکتا ہے تو ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔

رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالت کے حکم پر عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سینئر ڈاکٹرز کے پینل نے ان کا علاج کیا اور انہیں صحت مند قرار دیا۔ اگر اس معاملے پر اب بھی عدالت کوئی اور حکم دیتی ہے تو حکومت اس پر عمل کرے گی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ لانگ مارچ کسی مسئلے کا حل نہیں، مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی کو درپیش مسائل کا حل قانون اور سیاسی اصولوں کے مطابق تلاش کیا جائے گا، تاہم جو معاملات عدالت میں ہیں ان کا فیصلہ عدالتوں میں ہی ہوگا۔

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ اچھے ماحول میں ہوا ہے، تاہم ابھی کوئی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی گفتگو ہوئی ہے، مزید چند گھنٹے انتظار کیا جائے، فی الحال مذاکرات پر تبصرہ نہیں کرسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp