چین کی جانب سے ایندھن کی برآمدات محدود کیے جانے اور مشرق وسطیٰ میں امریکا کی جانب سے مزید فوجی دستے اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی اطلاعات کے بعد جمعہ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 0022 جی ایم ٹی پر برینٹ خام تیل کی قیمت 29 سینٹ یا 0.28 فیصد اضافے کے بعد 102.60 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 27 سینٹ یا 0.29 فیصد بڑھ کر 93.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
اس سے ایک روز قبل برینٹ کی قیمت میں 4 ڈالر سے زائد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 2 ڈالر سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا دُنیا معاشی ’زلزلے‘ کی طرف بڑھ رہی ہے، خام تیل کی عالمی قیمتیں کب اور کیوں بے قابو ہوئیں؟
تیل کی قیمتوں میں اس تیزی کی بڑی وجوہات میں چین کی جانب سے ریفائنڈ ایندھن کی برآمدات محدود کرنے کی اطلاعات اور امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھانے کی خبریں شامل ہیں۔
برینٹ رواں ہفتے مجموعی طور پر 1.93 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے، تاہم ستمبر کے دوران اس کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی میں گزشتہ ماہ تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا۔
Oil prices drifted slightly higher on Friday after China halted fuel exports, while the Wall Street Journal reported that the US is sending more troops and carriers to the Middle East as it also tries to make Europe draw down more emergency diesel. https://t.co/CprURs1hU4
— Reuters Africa (@ReutersAfrica) October 2, 2026
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا مشرق وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز اور 10 ہزار تک مزید فوجی بھیج رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب چین نے ایران کے ساتھ جنگ کے بعد مارچ میں ایندھن کی برآمدات محدود کی تھیں، جن میں جولائی میں نرمی کی گئی۔
تاہم اکتوبر کے لیے بڑے چینی ریفائنرز کو ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ دیگر علاقوں کو ایندھن برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مزید پڑھیں: حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان
ادھر امریکی انتظامیہ نے جرمنی اور فرانس سے ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لانے کی درخواست کی ہے تاکہ عالمی سطح پر بڑھتی ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے یورپی یونین سے آئندہ 6 ماہ کے دوران 12 کروڑ بیرل ڈیزل جاری کرنے کو کہا ہے۔
یورپی یونین کے ممالک کے پاس تقریباً 10 کروڑ 90 لاکھ ٹن ہنگامی خام تیل اور ایندھن کے ذخائر موجود ہیں، جنہیں عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے۔














