یوکرین نے روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اپنے تیار کردہ ایف پی-7 ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کو پہلی مرتبہ جنگی کارروائی میں استعمال کر لیا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو اس پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے میزائل کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اب توجہ اس کی پیداوار بڑھانے پر مرکوز کی جائے گی۔
صدر زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرین کے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ایف پی-7 کا پہلی بار جنگی استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے میزائل کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگلا مرحلہ اس کی پیداوار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زیلنسکی کا امریکا سے چیچن صدر کو اغوا کرنے کا مطالبہ، رمضان قادروف کا سخت ردِعمل
تاہم یوکرینی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایف پی-7 کو کس مقام پر استعمال کیا گیا، کس ہدف کو نشانہ بنایا گیا یا میزائل نے کارروائی میں کس نوعیت کے نتائج حاصل کیے۔
روس کی جانب سے گزشتہ ساڑھے 4 سال سے جاری جنگ کے دوران یوکرینی اہداف کے خلاف بیلسٹک میزائلوں کا باقاعدگی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
اسی تناظر میں یوکرین نے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے اور روسی حملوں کا جواب دینے کے لیے مقامی سطح پر ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کو اہم ترجیح دی ہے۔
Ukrainian President Zelenskyy confirmed that the FP-7 ballistic missile was successfully employed in a military operation.
A video was released.
The FP-7 is a ground-launched ballistic missile with a payload of up to 200 kg, and arange of up to 250 km. pic.twitter.com/xzyfilm6lH
— Open Source Intel (@Osint613) October 1, 2026
یوکرین کے لیے بیلسٹک میزائلوں کی مؤثر روک تھام کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کیف کو آئندہ موسم سرما کے دوران روسی حملوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
تاہم یوکرین کی میزائل پیداوار روس کے مقابلے میں اب بھی محدود ہے۔
زیلنسکی رواں سال ایف پی-7 کے تجربات کے نتائج کو سراہتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ میزائل نے فوجی استعمال کے لیے قابلِ ذکر صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: احتجاجی مظاہروں کے بعد زیلنسکی کا بڑا فیصلہ، میخائیلو دراپاتی یوکرین کے نئے کمانڈر انچیف مقرر
یوکرینی عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ایف پی-7 مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے، جس کی رینج تقریباً 200 کلومیٹر ہے۔
اس کے تیار کنندہ ادارے فائر پوائنٹ کے مطابق اسے یورپی میزائل دفاعی پروگرام فریجا کے تحت بیلسٹک میزائل شکن نظام کے طور پر بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
عسکری ماہرین ایف پی-7 کا موازنہ امریکی فوج کے ٹیکٹیکل میزائل سے کرتے ہیں، جن میں سے کچھ یوکرین کو فراہم کیے جا چکے ہیں، تاہم ایف پی-7 کو نسبتاً کم لاگت میں تیار کیا جا رہا ہے۔














