یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک کی فوجی قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے 43 سالہ میجر جنرل میخائیلو دراپاتی کو مسلح افواج کا نیا کمانڈر انچیف مقرر کر دیا ہے۔
روس کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد یہ یوکرین کی فوجی قیادت میں سب سے اہم تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین میں بڑی سیاسی تبدیلی، صدر زیلنسکی نے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا
صدر زیلنسکی نے 60 سالہ جنرل اولیکسینڈر سرسکی کی جگہ دراپاتی کو تعینات کیا، جنہیں جدید سوچ رکھنے والا، تجربہ کار اور نئی نسل کا فوجی کمانڈر تصور کیا جاتا ہے۔
دراپاتی 2024 سے 2025 تک یوکرین کی زمینی افواج کی قیادت کر چکے ہیں اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک روسی افواج کے خلاف مختلف محاذوں پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
I have decided that Mykhailo Drapatyi will become the new Commander-in-Chief of the Armed Forces of Ukraine. Together with Mykhailo, Yevhenii Khmara, and Pavlo Palisa, we determined how the General Staff of the Armed Forces of Ukraine should be reconfigured. It is a fact that… pic.twitter.com/spK2B2ppHP
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) July 21, 2026
یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے حکومتی ردوبدل اور اصلاحات کے حامی دفاعی وزیر میخائیلو فیڈوروف کی برطرفی کے بعد یوکرین میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا۔
حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کئی روز تک احتجاجی مظاہرے ہوئے، جبکہ تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس تبدیلی سے یوکرین کی جنگی پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: جنگ کا رخ بدل رہا ہے؟ یوکرین نے روسی پیشقدمی اور نقصانات پر نئی رپورٹ جاری کر دی
صدر زیلنسکی نے نئے کمانڈر کے تعارف کے موقع پر کہا کہ یوکرین کی مسلح افواج کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور روس کے خلاف طویل فاصلے تک حملوں اور پابندیوں سے متعلق حکمت عملی پر پوری درستگی کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔
ان کے مطابق مقصد روس پر دباؤ بڑھا کر اسے امن کی طرف لانا ہے۔
Crowds gathered in central Kyiv to welcome the appointment of Mykhailo Drapatyi as Ukraine's new commander-in-chief, expressing hope that the military shake-up will bring long-awaited reformshttps://t.co/l5fIJWRsGB
— The New Voice of Ukraine (@NewVoiceUkraine) July 22, 2026
دوسری جانب سابق کمانڈر جنرل سرسکی نے جنگ کے ابتدائی مراحل میں کیف کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا، تاہم انہیں سخت گیر کمانڈ انداز اور فوجیوں کے زیادہ جانی نقصان پر تنقید کا سامنا بھی رہا۔
نئے کمانڈر دراپاتی نے اپنی پہلی عوامی گفتگو میں کہا کہ وہ پوری ذمہ داری، مکمل توجہ اور ملک کا دفاع کرنے والے فوجیوں کے احترام کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
مزید پڑھیں: زیلنسکی کی بوتل کا ڈھکن کھولنے کی ویڈیو وائرل، یورپی قانون پر نئی بحث چھڑگئی
ادھر سابق وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف نے دراپاتی کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’تازہ ہوا کا جھونکا اور تبدیلی کی آواز‘ قرار دیا، جبکہ احتجاجی تحریک کے رہنماؤں نے بھی اس فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی فوجی قیادت جنگی حکمت عملی میں مؤثر تبدیلیاں لائے گی۔













