وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ میں الیکٹرک بس سروس کے 2 روٹس کا آغاز کردیا، جبکہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کی تکمیل کے لیے مارچ کی ڈیڈ لائن دے دی۔ مریم نواز شریف نے منصوبے کے انڈر پاس، ٹنل اور روڈ کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے، ماس ٹرانزٹ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کی گنجائش نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا، مظفرآباد کے بعد میرپور میں بھی الیکٹرک بسیں پہنچ گئیں
جمعے کے روز وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے الیکٹرو بس کے 2 روٹس کا آغاز کیا، ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی سائٹ کا معائنہ کیا اور منصوبے کے انڈر پاس، ٹنل اور روڈ کا جائزہ لیا۔ انہیں گوجرانوالہ شہر میں ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
گوجرانوالہ میں ابتدائی طور پر 2 روٹس پر الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔ ایک روٹ چن دا قلعہ سے لوہیانوالہ تک ہوگا، جبکہ دوسری الیکٹرک بس کھیالی سے جنیم نندی پور تک چلائی جائے گی، گوجرانوالہ میں تعمیرات مکمل ہونے پر مجموعی طور پر 74 الیکٹرو بسیں چلائی جائیں گی۔
کمسن طلبہ سے ملاقات
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دورے کے دوران کمسن طلبہ کو دیکھ کر اپنی گاڑی رکوائی اور ننھے اسد اللہ اور اس کے ساتھی سے شفقت کا اظہار کیا، وزیراعلیٰ نے بچوں کو سوئیٹس، پھل اور انعام بھی دیا۔
گوجرانوالہ میں آج وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی مصروفیت محض ایک دورہ نہیں،
عوامی ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کا دن تھا۔دو الیکٹروبس روٹس کا افتتاح
مجموعی طور پر 74 الیکٹروبسوں کا منصوبہ
ماس ٹرانزٹ منصوبے کو مارچ تک مکمل کرنے کی ہدایت
268 بستروں پر مشتمل گوجرانوالہ… pic.twitter.com/gzxTskuxfX— New Hope 😶🌫️ (@New116jb) October 2, 2026
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ میں مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی تعمیر جلد شروع کرنے کی ہدایت کی۔
مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی 50 کنال اراضی پر تعمیر کیا جائے گا، جہاں 268 بیڈز کی سہولت ہوگی۔ ادارے میں ایمرجنسی، سی سی یو، آئی سی یو اور جدید ترین آپریشن تھیٹرز شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف نے گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کی منظوری دے دی
مریم نواز کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ میں انجیوگرافی کیتھ لیبز، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور گاما کیمرہ بھی موجود ہوں گے، انسٹی ٹیوٹ میں 3 ٹیسلا ایم آر آئی اور الٹرا فاسٹ سی ٹی اسکینر نصب کیے جائیں گے، جبکہ 2 سنگل پلین اور ایک بائی پلین انجیوگرافی مشین بھی شامل ہوگی۔
اس کے علاوہ مریم نواز کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ میں 4 ماڈیولر آپریشن تھیٹرز اور 4 ہارٹ لنگ مشینیں بھی شامل ہوں گی۔














