پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 4 اکتوبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے شروع کی گئی فنڈ ریزنگ مہم نے پارٹی کے اندر مالی معاملات اور فنڈز کے استعمال میں شفافیت سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پارٹی میں اعتماد کے بحران اور اراکینِ اسمبلی کی جانب سے عدم تعاون کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو خود کارکنوں اور اوورسیز پاکستانیوں سے عطیات کی اپیل کرنا پڑی ہے، جبکہ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ فنڈ ریزنگ مہم کی نگرانی خود کریں گے۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اہم رہنماؤں اور اراکینِ اسمبلی سے متوقع مالی تعاون نہ ملنے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فنڈ ریزنگ کی ذمہ داری خود سنبھالی۔
پارٹی کی جانب سے ہر صوبائی حلقے سے 50 لاکھ روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن اراکینِ اسمبلی کی جانب سے مالی تعاون نہ کرنے پر وزیراعلیٰ خود ویڈیو پیغام جاری کرنے پر مجبور ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اپوزیشن ارکان کو ترقیاتی فنڈز کیوں نہیں دے رہی؟
دوسری جانب متعدد اراکینِ اسمبلی نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ وہ اپنے حلقوں سے کارکنوں کو لانے کے لیے ٹرانسپورٹ، کھانے اور دیگر اخراجات پہلے ہی خود برداشت کر رہے ہیں، اس لیے پارٹی فنڈ کے لیے رقم دینا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔
یہ اختلافات صرف موجودہ لانگ مارچ تک محدود نہیں ہیں۔ 2024 کے انتخابات کے بعد اراکینِ اسمبلی سے ماہانہ 50 ہزار روپے پارٹی فنڈ میں جمع کرانے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم 70 فیصد سے زیادہ اراکین نے اس میں حصہ نہیں لیا۔
دیر سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی شفیع اللہ نے بھی اس رقم کی ادائیگی پر اعتراض کیا تھا، جبکہ پشاور ڈویژن کے ایک رکنِ اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مؤقف اپنایا کہ کابینہ اراکین کو چونکہ زیادہ مراعات حاصل ہیں، اس لیے ان سے زیادہ رقم لی جانی چاہیے۔
موجودہ فنڈ ریزنگ مہم کے ساتھ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دور کے مالی معاملات بھی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ گنڈاپور تقریباً 20 ماہ وزیراعلیٰ رہے اور انہوں نے احتجاجی مظاہروں کے لیے کبھی اس طرح کی عام اپیل نہیں کی جس طرح وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کی۔
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور ہر احتجاج اور مارچ کے لیے اسٹوڈنٹس ونگ اور ویمن ونگ سمیت زیادہ تر اراکینِ اسمبلی کو نقد رقم فراہم کرتے تھے تاکہ وہ ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کا انتظام کر سکیں۔
مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور نے 4 ماہ میں عمران خان کے وکلا کو 11 کروڑ کا فنڈ دیا، شیر افضل مروت
4 اکتوبر کے مارچ کے حوالے سے علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ان کے قافلے میں شامل افراد کے تمام اخراجات وہ خود برداشت کریں گے۔
ان کے مطابق گاڑیوں کے لیے فی گاڑی 15 لاکھ روپے تک شورٹی جمع کرائی گئی ہے اور کل 3 کروڑ روپے کی ٹرانسپورٹ شورٹی ادا کی جا چکی ہے، جبکہ انہوں نے 50 لاکھ روپے پارٹی کو فنڈ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اسی اثنا میں پی ٹی آئی رہنما معظم بٹ ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے عمران خان کے مقدمات اور 9 مئی کے بعد گرفتار کارکنوں کی قانونی معاونت کے لیے وکلا کو 65 کروڑ روپے دیے، لیکن وہ رقم کیسے خرچ کی گئی اس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان سمیت ان کی ٹیم نے عدالتوں میں تمام قانونی معاونت بالکل مفت فراہم کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا فنڈنگ نظام ہمیشہ سے تنازعات کا شکار رہا ہے کہ پارٹی کو کتنا فنڈ ملا اور وہ کہاں خرچ ہوا، کیونکہ ان حسابات کا باقاعدہ آڈٹ نہیں کیا گیا جبکہ بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ شوکت خانم کے ذریعے کئی اراکین نے فنڈز دے کر پارٹی میں اپنے لیے جگہ بنائی ہے۔













