حکومت اپوزیشن مذاکرات بے نتیجہ ختم: معاہدہ ہوگیا تھا لیکن مذاکراتی ٹیم کو خیبرپختونخوا سے ڈکٹیٹ کیا گیا، طلال چوہدری

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات اور بات چیت کے تمام راستے آخری حد تک اختیار کیے، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کے باعث معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ معاہدہ تقریباً ہوگیا تھا لیکن مذاکراتی ٹیم کو خیبرپختونخوا سے ڈکٹیٹ کیا گیا۔

اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہاکہ پارلیمنٹ مسائل کے حل کا بہترین اور آئینی پلیٹ فارم ہے اور وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے آخری وقت تک اسی فورم پر معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ کے مترادف ثابت ہوا، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور حکومت نے مختلف امور پر بڑی حد تک لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے معاملے پر تعاون نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان 2، جو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دورِ حکومت میں تشکیل دیا گیا تھا، اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا، مگر خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس پر عمل کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے یقین دہانی کرائی گئی۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تمام اداروں اور حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، پاکستان کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، اس لیے ایک حد سے زیادہ انتظار ممکن نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے کہا کہ آئین میں مختلف آپشنز موجود ہیں، تاہم پہلی اور مثالی صورت یہی ہے کہ صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرے اور دہشتگردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون کرے، کیونکہ وہ اس کی پابند ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر ضرورت پیش آئی تو جو بھی اقدام کیا جائے گا، وہ آئین کے مطابق ہوگا۔ آرٹیکل 234 سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے آئین اور اس کی روح کے مطابق کیے جائیں گے۔

طلال چوہدری نے مزید کہاکہ حکومت نے بات چیت کے تمام راستے اختیار کیے، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر واضح اور عملی تعاون ضروری ہے۔

دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ آج کے مذاکرات ختم ہوگئے ہیں، خیبرپختونخوا میں آپریشن کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بہت سی چیزوں پر بات چیت ہوئی، تاہم کچھ معاملات پر حکومت کے ساتھ ڈیڈلاک برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج، دہشت گردی، لانگ مارچ اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔

واضح رہے کہ آج حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان پارلیمنٹ میں مذاکرات ہوئے اور ایک موقع پر یہ خبر سامنے آئی کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائےگا تاہم ڈیڈلاک ختم نہ ہو سکا۔

لانگ مارچ کا شیڈول جاری

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آج کے لانگ مارچ کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔

شیڈول کے مطابق لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوگا۔ لکی مروت، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جبکہ رات کو کرک کے قریب پڑاؤ کیا جائےگا۔

5 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کرک کے عوام قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ رات کو کوہاٹ کے قریب قیام کیا جائے گا۔ 6 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانگی ہوگی اور رات متنی کے قریب قیام ہوگا۔

7 اکتوبر کو دوپہر 12:30 بجے پشاور کے بڈھ بیر سے قافلہ روانہ ہوگا۔ ضلع خیبر سے آنے والے افراد بڈھ بیر میں ساتھ شامل ہوں گے، جبکہ پشاور کے دیگر علاقوں سے شرکا کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازہ پر قافلے کا حصہ بنیں گے۔ رات چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام ہوگا۔ پھر 8 اکتوبر کو دوپہر 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی، جہاں چارسدہ اور مہمند کے افراد قافلے میں شامل ہوں گے۔

مزید پڑھیں:پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں جاری، بات چیت ناکام ہوئی تو کھلی جنگ ہوگی، خواجہ آصف

شیڈول کے مطابق پورے خیبرپختونخوا سے آنے والے افراد 8 اکتوبر کو خیرآباد کے مقام پر جمع ہوں گے اور رات وہیں قیام کریں گے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق اس کے بعد کا لائحہ عمل خیرآباد میں دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp