وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے کراچی میں ون ڈور سہولت مرکز کے قیام کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندرگاہوں سے متعلق کاروباری خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں تاکہ کاروباری افراد کو سرکاری خدمات کے حصول میں آسانی ہو۔
وزارتِ بحری امور کے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے یہ ہدایت ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی، جس میں وزارت کے جاری منصوبوں، پالیسی اقدامات اور بحری شعبے سے متعلق مختلف امور پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلیو اکانومی میں اہم پیشرفت، پاکستان اور عراق کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کا معاہدہ
اجلاس میں بحری تجارت کو سہولت دینے، ماہی گیری کے شعبے کو مستحکم کرنے اور ملک کی بلیو اکانومی کے فروغ سے متعلق مختلف منصوبوں اور پالیسی اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کاروباری سہولت کے لیے مجوزہ ون ڈور سیل کے قیام پر پیش رفت تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے تجارتی سہولت کاری کے وژن کے مطابق بندرگاہی تجارت سے متعلق تمام خدمات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہونی چاہئیں۔

اجلاس میں جہازوں کی رجسٹریشن اور ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے جہازوں کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ بلیو اکانومی اور ماہی گیری سے وابستہ برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس مراعات سے متعلق اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
وزارت کی جانب سے قومی میری ٹائم پالیسی اور قومی فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: وار رسک لسٹ سے اخراج: بلیو اکانومی کا اہم سنگ میل
اجلاس میں شپنگ اور ٹرانس شپمنٹ پالیسی پر بھی غور کیا گیا، جبکہ سی ٹو اسٹیل منصوبہ اور مجوزہ انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس سمیت پورٹ قاسم کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کی منوڑہ ورکشاپ کی بحالی اور گوادر پورٹ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیشرفت بھی اجلاس میں زیر غور آئی۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر بحری امور نے کراچی میں فیری ٹرمینل کا افتتاح کردیا
وفاقی وزیر نے میری ٹائم ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے حوالے سے بھی بریفنگ لی۔ یہ فنڈ بحری تعلیم اور اس شعبے کے لیے انسانی وسائل کی ترقی میں معاونت کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔
محمد جنید انور چوہدری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر کام کی رفتار برقرار رکھی جائے اور انہیں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔














