سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی سفارش پر ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے اربوں روپے کے مالیاتی اسکینڈل، امانت میں خیانت، دھوکہ دہی اور کھاتوں میں جعل سازی کے کیس میں کارروائی مزید تیز کر دی ہے۔
24 ارب روپے سے زائد مالیت کے اس وسیع مالیاتی اسکینڈل میں جہاں بینک اسلامی کے 5 سینیئر افسران کو باقاعدہ ملزم نامزد کیا گیا ہے، وہیں دوسری جانب کیس کی عدالتی کارروائی اور سیشن جج کے طرزِ عمل پر ایف آئی اے نے شدید تحفظات اور جانبداری کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
اسکینڈل کا پس منظر اور اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق جمع کرائے گئے دوسرے عبوری تفتیشی رپورٹ میں یونٹی فوڈز لمیٹڈ اور یو ٹی پی ایل کی سنگین مالیاتی بے ضابطگیوں اور کارپوریٹ گورننس کی شدید خلاف ورزیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے ڈیپازٹس کا غیر قانونی استعمال
مذکورہ رپورٹ کے مطابق بینک اسلامی پاکستان نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنی یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے ڈیپازٹس کو یو ٹی پی ایل کے لیے حاصل کردہ مالیاتی سہولیات کی 100 فیصد ضمانت کے طور پر غیر قانونی طور پر استعمال کیا، جبکہ یو ٹی پی ایل ایک الگ قانونی حیثیت رکھنے والا ادارہ تھا جسے گروپ سے پہلے ہی الگ کیا جا چکا تھا۔
بینکوں کی جعل سازی
ایف آئی اے کی تفتیش کے مطابق دونوں بینکوں یعنی بینک اسلامی اور البرکہ بینک نے اس تھرڈ پارٹی ضمانت کے لیے یونٹی فوڈز لمیٹڈ یعنی یو ایف ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کوئی قانونی یا درست قرارداد حاصل نہیں کی تھی، البرکہ بینک نے صرف یو ٹی پی ایل کی قرارداد اور یو ایف ایل کی مہر والے ایک دستخط شدہ خط پر 5.25 ارب روپے جاری کیے۔
دوسری جانب بینک اسلامی نے یو ایف ایل کی اپنی سہولیات کے لیے بورڈ کی قراردادیں موجود ہونے کے باوجود محض 2 دستخط کنندگان کے خط پر انحصار کیا، اس غیر قانونی طریقہ کار کے نتیجے میں دونوں بینکوں نے یو ایف ایل کے ڈیپازٹس سے 12 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ روپے اصل رقم اور 1 ارب 18 کروڑ 29 لاکھ روپے منافع اور چارجز کی مد میں منہا کر لیے۔
بینکوں کے نظام پر سوالیہ نشان
ایف آئی اے کے عبوری چالان کے مطابق بینک کے نامزد افسران کے یہ اقدامات ملزم ڈائریکٹرز کے ساتھ مل کر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت امانت میں خیانت اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت مجرمانہ بدعنوانی کے زمرے میں آتے ہیں۔
معاملے کی پروسیسنگ چین کی تفتیش کے دوران بینک اسلامی میں حسان رضا، ریحان شہزادہ، سید مظفر عالم، مکرم حسن اور ظہیر الہی بابر سمیت مینجمنٹ کریڈٹ کمیٹی کا کردار سامنے آیا جبکہ البرکہ بینک میں رخشندہ عثمان، حامد نبی، تحسین خان اور فرخ اسلم کردار سامنے آیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں بینکوں کے داخلی کنٹرول، بشمول کریڈٹ کی شروعات، رسک اسیسمنٹ، اور آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی عدم مطابقت کی تفصیلی جانچ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
15 ارب روپے کا فراڈ
ایف آئی اے کی تفتیش کے مطابق بینک اسلامی اور البرکہ بینک پر الزام ہے کہ انہوں نے یونٹی فوڈز کے 13.65 ارب روپے کے ڈپازٹس کو قرض کے مقصد کے لیے استعمال کیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے ریکارڈ کے مطابق سال 2023 میں جے ایس بینک کی جانب سے بینک اسلامی کے اکثریتی شئیرز خریدنے کے خلاف ایک دائر درخواست میں جے ایس بنک کے حق میں فیصلہ ہواتھا، تب جے ایس بینک، بینک اسلامی کے 50 فیصد شئیرز کا مالک بن چکا تھا لیکن اب جے ایس بینک دراصل بینک الاسلامی کے 70 فیصد سے زائد کے شیئرز کا مالک ہے۔
والدہ کے اکاؤنٹ سے غیر قانونی منتقلی
دوسری جانب بانی و سابق سی ای او فرخ امین گوڈیل کی والدہ کے اکاؤنٹ کے ذریعے مبینہ طور پر 5.3 ارب روپے منتقل کیے گئے اور بورڈ کی منظوری کے بغیر اسے قرض دکھایا گیا۔
ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عماد ارشد بٹ کی جانب سے بینک اسلامی کے صدر اور سی ای او کو فائنل نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں قرض کی منظوری کا مکمل ریکارڈ، شریعہ بورڈ کی منظوری، آڈٹ تحفظات، قانونی آرا، 10 لاکھ روپے سے زائد کی تمام در آمد و برآمد کا حساب، اور تمام نامزد افسران کے کوائف و بونس اور ذاتی اثاثوں کا ریکارڈ یو ایس بی فلیش ڈرائیو میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے متنبہ کیا ہے کہ مقررہ وقت پر ریکارڈ نہ دینا ثبوت چھپانے کی کوشش شمار ہو گا۔
سیشن جج پر جانبداری کا الزام اور بینکنگ کورٹ منتقلی کا مطالبہ
اس کیس کی عدالتی پیش رفت پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، اسپیشل پبلک پروسیکیوٹر بیرسٹر ارشاد احمد جتوئی نے ڈی جی ایف آئی اے کو مراسلہ بھیج کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (شرقی) نصیر نور خان کی کارروائی کو انتہائی جانبدارانہ اور غیرروایتی قرار دیا ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عدالت حراست میں موجود ملزمان کو ضمانت دے سکتی ہے، سرکاری وکیل نے سندھ ہائی کورٹ کی ممبر انسپکشن ٹیم کو تحریری شکایت بھیجی ہے اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے تمام درخواستیں کسی دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی ہے۔
بینکنگ کورٹ منتقلی کی استدعا
ایف آئی اے کا موقف ہے کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ اور بینک افسران کی نامزدگی کے بعد سیشن کورٹ کے بجائے کیس کی سماعت کا قانونی اختیار صرف خصوصی عدالت برائے بینکاری جرائم کو حاصل ہے۔
جج نصیر نور خان نے 28 ستمبر کو ضمانتوں کی سماعت ملتوی کرنے سے انکار کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ مجسٹریٹ کی جانب سے ایف آئی اے کا دوسرا عبوری چالان منظور نہ کیے جانے کے باعث بینکاری سے متعلق نئی دفعات ابھی باضابطہ طور پر مقدمے کا حصہ نہیں بنیں۔
سیشن جج نے اس بنیاد پر استغاثہ کو زیرِ التوا درخواستِ ضمانتوں پر دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی، ہائیکورٹ نے اب دائرۂ اختیار کا تنازع طے ہونے تک یہ کارروائی معطل کردی ہے۔
اسپیشل پبلک پروسیکیوٹر بیرسٹر ارشاد احمد جتوئی نے 29 ستمبر کو ڈی جی ایف آئی اے کے نام لکھے گئے خط میں سیشن عدالت کی کارروائی کو انتہائی جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے ذریعے ضمانت سے متعلق تمام درخواستیں کسی دوسری عدالت منتقل کرانے کی سفارش کی تھی۔
یہ رقوم الگ الگ اور ممکنہ طور پر ایک دوسرے سے منسلک الزامات سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں جمع کرکے حتمی مبینہ نقصان قرار نہیں دیا جاسکتا، سندھ ہائی کورٹ کے حکم میں مجموعی مبینہ مالی نقصان یا خردبرد کا حجم تقریباً 44 ارب روپے درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات اور رقوم کا سراغ لگانے کا عمل ابھی جاری ہے۔
مرکزی ملزم کی رہائی و مفروری
بانی و سابق سی ای او فرخ امین گوڈیل کو 29 اگست کو گرفتاری کے بعد ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ڈسچارج کر دیا تھا، جسے بعد میں ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دیا، تاہم، فرخ امین نے بعد میں حفاظتی ضمانت حاصل کر لی، ایف آئی اے کے مطابق وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوئے، جس بنا پر انہیں چالان میں مفرور قرار دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایسے واقعات پر کیا نتائج نکلے؟
بینک آف پنجاب میں اس نوعیت کے مقدمہ میں جعلسازی اور کولیٹرل کی کمی سے جڑے اس کیس میں تحقیقات صرف برانچ لیول کے افسران تک محدود نہیں رہیں، بلکہ کریڈٹ سہولیات میں توسیع کرنے والے بینک کے سابق صدر اور جنرل مینیجرز کی کریڈٹ کمیٹی تک بھی پہنچیں۔
نیشنل بینک آف پاکستان کا مقدمہ اس کیس میں 2017 میں نیشنل بینک کے سابق صدر عابد بروہی، سابق سی او او قمر حسین اور کریڈٹ کمیٹی کے دیگر سینیئر ارکان نامزد ہوئے، الزام یہ تھا کہ قرضوں کی ساخت میں غلط قیمت طے کرنے کا فیصلہ ان سینیئر افسران پر مشتمل کمیٹی نے کیا تھا۔
سال 2020 میں سندھ بینک کے سابق صدر محمد بلال شیخ کو نیب ریفرنس کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ان کا موقف تھا کہ وہ مالیاتی سہولت منظور کرنے والی کریڈٹ کمیٹی کے صرف ایک ممبر تھے۔













