منشیات کے مقدمے میں گرفتار کوکین کوئین انمول پنکی کے خلاف پولیس نے 6 ماہ بعد تفتیش مکمل کرکے عبوری چالان کراچی کی عدالت میں جمع کرادیا، جس کے بعد مقدمہ مزید کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ منتقل کردیا گیا۔
مقدمے کی سماعت کراچی سٹی کورٹ میں ہوئی، جہاں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چالان پیش کیا۔ عدالت نے چالان منظور کرتے ہوئے کیس کو مزید کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ بھیج دیا۔
پولیس نے عبوری چالان میں انمول پنکی کو گرفتار ملزمہ ظاہر کیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ملزمہ پر شہر میں منشیات کا بڑا نیٹ ورک چلانے اور نوجوانوں کو نشانہ بنا کر انہیں منشیات کے استعمال کی طرف راغب کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
چالان میں ملزمہ کے خلاف عائد الزامات کے ساتھ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد بھی شامل کیے گئے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول، جسے پنکی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو 11 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گارڈن میں واقع ایک فلیٹ سے پولیس اور وفاقی انٹیلی جنس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
کارروائی کے دوران مبینہ طور پر ڈیڑھ کلوگرام کوکین، پیکنگ کا سامان، دیگر منشیات اور 10 گولیوں سمیت 9 ایم ایم پستول برآمد کیا گیا تھا۔
حکام نے ضبط کی گئی کوکین کی مالیت تقریباً 3 کروڑ روپے بتائی تھی۔
گرفتاری کے بعد میڈیا میں انمول پنکی کو شہر کی بڑی منشیات فروشوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے خبریں نشر کی گئی تھیں۔
تاہم کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان نے بعد ازاں کہا تھا کہ میڈیا کوریج کے باعث معاملے پر بہت زیادہ شور پیدا ہوا، حالانکہ انمول پنکی منشیات کی اتنی بڑی سپلائر نہیں تھی۔














