لاہور کی گلیوں میں ایک ریپر اب مائیک نہیں، موٹر سائیکل کا ہینڈل سنبھالے ان ڈرائیو چلا رہا ہے۔ ہیلمٹ سر پر، بیٹس ذہن میں، اور سگنل کی ہر سرخ روشنی اس کے لیے ایک چھوٹا وقفہ ہے جس میں وہ اگلی نظم کے بول دہراتا ہے۔ مسافر پیچھے بیٹھتے ہیں تو اسے صرف کرایہ نہیں، شہر کی وہ آوازیں بھی ملتی ہیں جو بعد میں اس کے ٹریک میں اتر جاتی ہیں۔ ایندھن مہنگا ہے، رائیڈ کم، مگر وہ سڑک کو اسٹیج سمجھ کر چلتا ہے، کیونکہ شہرت سے پہلے روزگار، اور گانے سے پہلے گھر کا خرچ نکلنا ضروری ہے۔
مزید جانیے اس رپورٹ میں













