حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل مذاکرات کا دوسرا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا، جس کے بعد وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد مذاکراتی عمل ختم ہوچکا ہے۔ حکومتی وزرا کے مطابق مذاکرات میں بیشتر سیاسی معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا، تاہم خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی، سیکیورٹی تعاون اور صوبائی حکومت کی یقین دہانیوں کے معاملے پر آخری مرحلے میں اختلافات پیدا ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ناکام، وفاق کا خیبر پختونخوا میں مختلف آئینی اقدامات پر غور، صوبے پر کنٹرول کس کا ہوگا؟
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ آگے بڑھانے کے لیے متحرک ہیں اور ذرائع کے مطابق تیسرے دور کے انعقاد کے لیے حکومتی حلقوں سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سیاست میں کسی چیز کو آخری نہیں کہنا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہونے کا امکان ہے؟
وفاقی حکومت کی مذاکراتی ٹیم میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ شامل تھے۔ مذاکرات کے دوسرے دور میں 13 گھنٹے سے زائد بات چیت ہوئی، جبکہ مختلف نکات پر مسودے کی تیاری اور ترامیم بھی کی گئیں۔
لانگ مارچ شروع ہوا تو مذاکرات ختم ہوگئے، محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں تقریباً 99 فیصد معاملات پر اتفاق ہوچکا تھا، تاہم آخری مرحلے میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے طے شدہ نکات سے پیچھے ہٹنے کے بعد معاملہ ختم ہوگیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایک موقع پر معاہدے کا مسودہ تیار ہوچکا تھا اور وہ اسے صدر مملکت اور وزیراعظم کے علم میں لانے کے لیے لے کر گئے تھے، لیکن بعد میں مسودے میں دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کے نامزد رہنماؤں کے پاس اختیارات نہیں تھے، امیر مقام
انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی لانگ مارچ شروع ہوا، مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ ان کے مطابق حکومت نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے، مگر خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی کے معاملات پر مطلوبہ یقین دہانیاں پوری نہ ہونے سے پیش رفت رک گئی۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کسی صورت 9 مئی جیسے واقعات کو دوبارہ نہیں ہونے دے گی اور لانگ مارچ کے دوران قانون کی مکمل عمل داری یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی جانی نقصان یا نقصان دہ واقعے کی صورت میں ذمہ داری متعلقہ قیادت پر عائد ہوگی۔
اصل رکاوٹ خیبر پختونخوا حکومت کا رویہ تھا، رانا ثنااللہ
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے مذاکرات کے بعد کہا کہ حکومت نے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کا رویہ قابلِ قبول نہ ہونے کے باعث معاہدہ نہیں ہوسکا۔ رانا ثنا اللہ نے حکومت کی طرف سے بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہوجائے تو مذاکرات دوبارہ ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد محض لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کو یقینی بنانا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو سیکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملات میں اپنا آئینی و قانونی کردار ادا کرنا ہوگا۔
ایمرجنسی مقصد ہوتی تو مذاکرات نہ کرتے، امیر مقام
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ اگر حکومت کا مقصد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا ہوتا تو وہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں نہ بیٹھتی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران متعدد مرتبہ مسودے میں تبدیلیاں کیں اور مختلف تجاویز پر لچک کا مظاہرہ کیا۔ امیر مقام کے مطابق حکومت نے صوبائی حکومت کو ایک اور موقع دینے کی کوشش کی، تاہم دہشتگردی اور امن و امان کے معاملے پر صورتحال کو مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے حکومت کے پاس آئینی راستے موجود ہیں، تاہم فوری طور پر مقصد صوبائی حکومت کو تعاون کا ایک اور موقع دینا ہے۔
مذاکرات ناکام ہونے کی بڑی وجہ دہشتگردی پر تعاون نہ ملنا، طلال چوہدری
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مذاکرات کے بعد کہا کہ حکومت پہلے دن سے واضح کرتی رہی ہے کہ معاملہ صرف سیاسی احتجاج کا نہیں بلکہ سیکیورٹی اور دہشتگردی کا بھی ہے۔
ان کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان انسدادِ دہشتگردی میں تعاون ناگزیر ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کے بغیر دہشتگردی کے خلاف مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر مطلوبہ سنجیدگی نہیں دکھائی۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ختم لانگ مارچ شروع، پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟
طلال چوہدری نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں کس طرح ادا کرتی ہے۔ ان کے بقول مذاکراتی عمل میں متعدد معاملات پر اتفاق رائے کے قریب پہنچنے کے باوجود سیکیورٹی کے بنیادی معاملات حل نہ ہوسکے۔
انہوں نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ اور آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی ایک ہی تاریخ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے بعض روابط اور مماثلتیں میڈیا کے سامنے رکھی ہیں۔
حکومت نے مشترکہ طریقہ کار کی پیشکش کی تھی، عطاتارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف وفاق اور صوبے کے درمیان مشترکہ طریقہ کار اختیار کرنے کی کوشش کی، لیکن صوبائی حکومت کی طرف سے مطلوبہ تعاون سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے اور صوبائی حکومت کو ایپکس کمیٹی کے اجلاس، نیشنل ایکشن پلان اور پولیس و انسدادِ دہشتگردی کے نظام سے متعلق اقدامات پر توجہ دینا چاہیے۔
عطا اللہ تارڑ نے حکومت کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنا ہوگا اور ریاستی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی خرابی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
حکومت کے مطابق مذاکرات میں کیا طے ہونے کے قریب تھا؟
حکومتی مؤقف کے مطابق مذاکرات کے دوران ایک تحریری مسودہ بھی تیار ہوگیا تھا۔
حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے حوالے سے جن امور پر یقین دہانی مانگی گئی، ان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، کالعدم تنظیموں کی مذمت، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، پولیس اور انسدادِ دہشتگردی کے لیے وسائل، سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات شامل تھے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ انہی معاملات پر آخری مرحلے میں اتفاق برقرار نہیں رہ سکا اور مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے۔
اب مذاکرات کے تیسرے دور کے امکانات کیا ہیں؟
حکومتی بیانات کو سامنے رکھا جائے تو فوری طور پر تیسرے دور کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔
تاہم حکومت کی بعض شخصیات کے بیانات میں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ سیاسی رابطے کا تصور مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ امیر مقام نے کہا کہ حکومت نے صوبائی حکومت کو ایک اور موقع دینے کی کوشش کی، جبکہ موجودہ ڈیڈلاک کو بعض حلقے وقتی قرار دے رہے ہیں۔
اس لیے موجودہ صورت حال کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ تیسرا دور فی الحال نہ تو طے ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے اس کا اعلان کیا گیا ہے، فوری ترجیح لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال ہے۔
اگر لانگ مارچ رک جاتا ہے اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملے پر وفاق اور صوبے کے درمیان کوئی قابلِ قبول فریم ورک سامنے آتا ہے تو سیاسی رابطے دوبارہ شروع ہونے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم موجودہ حکومتی بیانات میں فوری طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بجائے قانون، سیکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی پر عمل درآمد کو ترجیح دی جارہی ہے۔














