پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے خلاف شدید احتجاج: ’سہیل آفریدی کو ہٹاؤ، صوبہ بچاؤ’ مہم کا آغاز

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اسمبلی چوک کے مقام پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جاری لانگ مارچ اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، محسن نقوی بول پڑے

میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے میں تاجروں، سول سوسائٹی اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمیت مختلف مکاتب فکر نے شرکت کی جس کے دوران مظاہرین نے ‘سہیل آفریدی کو ہٹاؤ، صوبہ بچاؤ’ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر صوبائی انتظامیہ اور سہیل آفریدی کے اقدامات کے خلاف سخت نعرے درج تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامی فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث نہ صرف کاروباری طبقات شدید متاثر ہو رہے ہیں بلکہ صوبے کے اسپتالوں اور انتظامی امور میں بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ 13 سال سے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور رپورٹس کے مطابق انہوں نے حکومت کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین نے شکایت کی کہ پورے صوبے میں مہنگائی کی شرح میں شدید اضافہ ہو چکا ہے اور بے روزگاری بھی حد سے بڑھ گئی ہے۔

مزید پڑھیے: ڈی جی آئی ایس پی آر کی ہنگامی پریس کانفرنس،کیا سہیل آفریدی جانے والے ہیں؟

مظاہرین نے مزید کہا کہ جب سے سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ چارج سنبھالا ہے صوبہ تباہی کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اپنے لانگ مارچ میں مصروف ہیں اور عوام سے ملاقات تک نہیں کر رہے۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرین کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے جیلوں میں قید اپنے کارکنوں کی بھی خبر گیری نہیں کی ہے۔

تاجر برادری کی شکایات اور تحفظات

مظاہرین کے مطابق صوبائی حکومت عوام اور تاجر برادری کو دھوکہ دے رہی ہے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ احتجاجی مارچ کی وجہ سے انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان اربوں روپے کی تجارت ہوتی ہے لیکن سڑکوں کی بندش نے تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

تاجر رہنماؤں نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی کئی بار کوشش کی لیکن انہیں وقت نہیں دیا گیا جس کے بعد تاجر برادری اور عوام نے صوبائی حکومت کے خلاف متحد ہو کر احتجاج کی راہ اپنائی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے میں پھیلا دیا جائے گا۔

مظاہرے کے اختتام پر رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے پیشرفت نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کس کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، احسن اقبال

قبل ازیں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور معاشی بحالی کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہ سوچیں کہ وہ آخر کس کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں؟

مزید پڑھیں:: اپنے انتخابی حلقے کے لوگ بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے نالاں کیوں؟

اپنے آبائی حلقے نارووال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ ایک قومی فریضہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے لیکن آگے بڑھنے کے لیے ملک میں امن و امان اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp