ذہنی دباؤ کے شکار والدین کی دیکھ بھال کے دوران اولاد خود بھی متاثر ہوسکتی ہے، حل کیا ہے؟

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

والدین کی بیماری یا بڑھتی عمر میں ان کی دیکھ بھال کرنا اولاد کے لیے محبت، ذمہ داری اور فرض کا حصہ ہے لیکن جب یہ ذمہ داری طویل عرصے تک جاری رہے تو اس کے اثرات دیکھ بھال کرنے والے فرد کی اپنی ذہنی صحت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کہیں آپ کے بھی اردگرد کوئی سائیکوپیتھ تو نہیں؟ جانیے ایسے شخص کی اہم علامات

خاص طور پر ایسی صورت میں جب والدین میں ذہنی بیماری، جیسے بائی پولر ڈس آرڈر، کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کے مسائل بھی موجود ہوں، اولاد کو بیک وقت جذباتی، جسمانی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بائی پولر ڈس آرڈر کیا ہے؟

بائی پولر ڈس آرڈر ایک ذہنی صحت کی بیماری ہے جس میں انسان کے موڈ، توانائی اور سرگرمی کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ اس بیماری میں ڈپریشن کے ادوار کے ساتھ ساتھ مینیا یا ہائپو مینیا کی کیفیات بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔

ڈپریشن کے دوران فرد شدید اداسی، ناامیدی، تھکن اور روزمرہ سرگرمیوں میں دلچسپی کی کمی محسوس کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس مینیا کے دوران غیرمعمولی طور پر زیادہ توانائی، بہت کم نیند، تیز رفتاری سے بات کرنا، حد سے زیادہ سرگرمی یا بعض اوقات غیرمعمولی اور خطرناک فیصلے کرنے کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے۔

یہ عام موڈ میں اتار چڑھاؤ سے مختلف ایک طبی بیماری ہے، جس کی تشخیص اور علاج ماہرِ صحت کی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔

جب والدین کی بیماری بچوں کی زندگی پر اثر ڈالے

اگر والدین میں بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص نہ ہوئی ہو تو خاندان کے لیے ان کے رویوں اور موڈ میں ہونے والی شدید تبدیلیوں کو سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ بعض خاندانوں میں بچوں کو کم عمری ہی سے والدین کے ڈپریشن یا مینیا کے ادوار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیے: بار بار ہاتھ دھونا، چیزیں چھونا یا دروازہ چیک کرنا، او سی ڈی کیا ہے اور انسان ایسا کیوں کرتا ہے؟

ایسے حالات میں بچے بعض اوقات اپنی عمر سے کہیں زیادہ ذمہ داریاں اٹھانے لگتے ہیں۔ انہیں گھر کے کام، چھوٹے بہن بھائیوں یا بیمار والدین کی دیکھ بھال تک کرنا پڑ سکتی ہے۔

جب اولاد بنیادی نگہداشت کرنے والی بن جائے

والدین میں جسمانی بیماری بھی شامل ہوجائے تو دیکھ بھال کی ذمہ داری مزید بڑھ سکتی ہے۔ بعض مریضوں کو چلنے پھرنے، کپڑے تبدیل کرنے، کھانے پینے، ادویات لینے یا ذاتی صفائی جیسے روزمرہ کاموں میں مدد درکار ہوتی ہے۔

اگر خاندان کا دوسرا فرد بھی یہ ذمہ داری سنبھالنے کے قابل نہ ہو تو ایک ہی بیٹا یا بیٹی عملی طور پر والدین کا بنیادی نگہداشت کنندہ بن سکتا ہے۔

مسلسل کئی برس تک یہ ذمہ داری نبھانے سے اس فرد کی اپنی تعلیم، ملازمت، ازدواجی زندگی اور سماجی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اپنے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ والدین کی دیکھ بھال بھی کرتا رہتا ہے جس سے ذہنی دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

جب دیکھ بھال کے ساتھ تنقید بھی شامل ہوجائے

صرف جسمانی دیکھ بھال ہی ذہنی تھکن کی وجہ نہیں بنتی۔ اگر نگہداشت کرنے والے فرد کو مسلسل تنقید، شکایات یا اپنی صلاحیتوں پر سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑے تو صورتحال زیادہ مشکل ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: سماجی گھبراہٹ بڑھانے والی پوشیدہ عادتیں کون سی ہیں؟ جانیے ان سے نمٹنے کے طریقے

مثلاً بعض خاندانوں میں والدین اپنے بالغ بچوں کے گھریلو معاملات یا بچوں کی پرورش کے فیصلوں میں مسلسل مداخلت کرتے ہیں۔ اگر دیکھ بھال کرنے والا فرد ایک طرف والدین کی خدمت کر رہا ہو اور دوسری طرف اپنے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری بھی نبھا رہا ہو تو ایسی مداخلت اس کے لیے شدید جذباتی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

اپنی ذہنی صحت کو نظر انداز نہ کریں

کسی بیمار یا معمر فرد کی دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ مسلسل تھکن، چڑچڑاپن، بے بسی، نیند میں خرابی، ہر وقت ذمہ داری کا بوجھ محسوس ہونا یا یہ احساس کہ کوئی آپ کی کوششوں کو نہیں سمجھتا، ذہنی دباؤ کی علامات ہوسکتی ہیں۔

ایسے میں خاندان کے دیگر افراد سے ذمہ داریاں بانٹنا، مناسب آرام کرنا اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات یا دیگر طبی ماہرین سے مشورہ لینا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

والدین کی خدمت اور اپنی زندگی میں توازن

والدین کی دیکھ بھال محبت اور ذمہ داری کا اظہار ہوسکتی ہے لیکن اس ذمہ داری کا بوجھ ایک فرد پر مسلسل ڈال دینا پورے خاندان کے لیے مشکل پیدا کرسکتا ہے۔

ضروری ہے کہ خاندان میں نگہداشت کی ذمہ داریاں ممکنہ حد تک تقسیم کی جائیں اور دیکھ بھال کرنے والے فرد کو بھی آرام، ذاتی زندگی اور جذباتی مدد کا حق دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: اپنے لیے بہترین تکیہ کیسے منتخب کریں؟ جانیے آسان طریقہ

والدین کی ذہنی یا جسمانی بیماری صرف مریض کی زندگی کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کے اثرات خاندان کے دوسرے افراد تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے خاندانوں میں صرف مریض ہی نہیں بلکہ اس کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کی ذہنی صحت اور ضروریات کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp