الیکٹرک کار میں سفر کے دوران متلی کیوں ہوتی ہے؟ ماہرین نے ممکنہ وجہ بتادی

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برقی گاڑیاں دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہی ہیں لیکن کچھ مسافروں کے لیے ان میں سفر ایک مختلف مسئلہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ روایتی گاڑی کے مقابلے میں برقی گاڑی میں بیٹھنے کے دوران انہیں متلی، چکر، پسینہ آنے یا طبیعت خراب ہونے کی شکایت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشروبات ذہنی صحت پر کیسے اثر انداز ہوسکتے ہیں؟ نئی تحقیق میں دلچسپ انکشاف

اگرچہ ہر شخص کو ایسا تجربہ نہیں ہوتا اور بعض افراد برقی گاڑی میں روایتی گاڑی کے مقابلے میں کم موشن سکنس محسوس کرتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں میں برقی گاڑی کے سفر کے دوران یہ کیفیت زیادہ شدید ہوسکتی ہے۔

تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اس لیے ماہرین حتمی طور پر یہ نہیں کہتے کہ برقی گاڑیاں لازماً موشن سکنس کا باعث بنتی ہیں۔ تاہم بعض ممکنہ وجوہات سامنے آئی ہیں جو اس کیفیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

موشن سکنس آخر ہوتی کیوں ہے؟

ماہرین کے مطابق سفر کے دوران متلی یا موشن سکنس اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب جسم کو حرکت کے بارے میں مختلف حسی ذرائع سے متضاد اشارے ملیں۔

انسان کے جسم میں حرکت محسوس کرنے کے لیے بنیادی طور پر 3 اہم ذرائع کام کرتے ہیں جن میں آنکھیں، اندرونی کان میں موجود توازن کا نظام اور جسم کے مختلف حصوں سے ملنے والے حسی اشارے شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: کہیں آپ کے بھی اردگرد کوئی سائیکوپیتھ تو نہیں؟ جانیے ایسے شخص کی اہم علامات

مثلاً اگر گاڑی چل رہی ہو لیکن مسافر موبائل فون کی اسکرین دیکھ رہا ہو تو آنکھوں کو حرکت کا وہ احساس نہیں ملتا جو جسم اور اندرونی کان محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ یہی تضاد بعض افراد میں متلی اور چکر کی کیفیت پیدا کرسکتا ہے۔

برقی گاڑی میں یہ مسئلہ کیوں زیادہ محسوس ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق برقی گاڑیوں میں انجن کی آواز اور روایتی گاڑیوں میں محسوس ہونے والی مخصوص ارتعاش نسبتاً کم ہوتی ہے۔ انسان طویل عرصے سے گاڑی کی حرکت کو اس کی آواز اور ارتعاش کے ساتھ جوڑنے کا عادی ہے۔

برقی گاڑی میں یہ اشارے کم ہونے کی وجہ سے بعض مسافروں کے لیے آنکھوں، اندرونی کان اور جسم سے ملنے والے اشاروں کے درمیان فرق پیدا ہوسکتا ہے جو موشن سکنس کا باعث بن سکتا ہے۔

ایک اور ممکنہ وجہ ’ری جنریٹو بریکنگ‘ ہے۔ برقی گاڑیوں میں ایکسیلیٹر سے پاؤں ہٹانے پر گاڑی کی موٹر جنریٹر کے طور پر کام شروع کردیتی ہے جس سے گاڑی کی رفتار کم ہوتی اور بیٹری میں توانائی واپس ذخیرہ ہوتی ہے۔

اگر یہ رفتار اچانک کم کرے تو مسافر کو گاڑی کے ہلکے سے آگے پیچھے جھولنے جیسا احساس ہوسکتا ہے جو بعض افراد میں متلی کی کیفیت بڑھا سکتا ہے۔

اسی طرح برقی گاڑیاں روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں نسبتاً تیزی سے رفتار پکڑنے یا کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اچانک تیز رفتاری یا رفتار میں تبدیلی بھی حساس افراد میں موشن سکنس کو بڑھا سکتی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی چلانے کا انداز بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور ضروری نہیں کہ ہر صورت اس کی وجہ خود برقی گاڑی ہو۔

خواتین اور بچوں میں مسئلہ زیادہ ہوسکتا ہے

ماہرین کے مطابق کچھ لوگ فطری طور پر موشن سکنس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور اس میں جینیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

خواتین اور بچوں میں اس کیفیت کا امکان نسبتاً زیادہ بتایا جاتا ہے۔ بچوں میں موشن سکنس عموماً 8 سے 10 سال کی عمر کے درمیان زیادہ دیکھی جاتی ہے جس کے بعد وقت کے ساتھ اور سفر کے تجربے کے باعث اس میں کمی آسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: بار بار ہاتھ دھونا، چیزیں چھونا یا دروازہ چیک کرنا، او سی ڈی کیا ہے اور انسان ایسا کیوں کرتا ہے؟

تاہم یہ ضروری نہیں کہ برقی گاڑی میں بیٹھنے والے ہر فرد کو یہ مسئلہ درپیش ہو۔ بہت سے لوگ برقی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے بالکل معمول کے مطابق محسوس کرتے ہیں، جبکہ بعض افراد کا تجربہ اس کے برعکس بھی ہے۔

سفر کے دوران متلی سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

اگر گاڑی میں بیٹھنے کے دوران طبیعت خراب ہونے لگے تو چند آسان اقدامات موشن سکنس کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

گاڑی کی اگلی سمت دیکھیں: سفر کے دوران سامنے کی طرف دیکھیں اور موبائل فون استعمال کرنے یا کتاب پڑھنے سے گریز کریں۔

اگلی نشست پر بیٹھیں: اگر ممکن ہو تو پچھلی نشست کے بجائے اگلی نشست کا انتخاب کریں۔ اگر پچھلی نشست پر بیٹھنا ضروری ہو تو درمیان والی نشست بہتر ہوسکتی ہے جہاں سے سامنے کا راستہ نظر آتا رہے۔

سر کو زیادہ حرکت نہ دیں: سر کو سیٹ کے ہیڈ ریسٹ سے ٹکا کر رکھنے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

کھڑکی کھولیں: تازہ ہوا متلی کی کیفیت کم کرنے میں معاون ہوسکتی ہے۔

سانس کو معمول پر رکھیں: پرسکون اور متوازن انداز میں سانس لینے کی کوشش کریں۔

سفر سے پہلے احتیاط کریں: طویل سفر سے قبل مناسب نیند لیں، جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور بہت زیادہ چکنائی والی غذا سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھیے: سماجی گھبراہٹ بڑھانے والی پوشیدہ عادتیں کون سی ہیں؟ جانیے ان سے نمٹنے کے طریقے

ضرورت پڑنے پر موشن سکنس کی ادویات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں تاہم بعض ادویات غنودگی کا باعث بن سکتی ہیں اس لیے ان کے استعمال کے بارے میں ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

کیا جسم وقت کے ساتھ عادی ہوجاتا ہے؟

ماہرین کے مطابق بعض افراد میں بار بار سفر کرنے سے موشن سکنس کی شدت کم ہوسکتی ہے کیونکہ جسم بتدریج حرکت کے نئے انداز سے مطابقت پیدا کرلیتا ہے۔

اس لیے اگر کسی شخص کو برقی گاڑی میں ابتدائی طور پر متلی محسوس ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ ہمیشہ برقرار رہے۔ وقت کے ساتھ جسم نئے سفر کے تجربے کا عادی ہوسکتا ہے۔

گاڑیوں میں بھی تبدیلیاں ممکن ہیں

ماہرین کے مطابق مستقبل میں برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں ایسی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں جو مسافروں میں موشن سکنس کے امکان کو کم کریں۔

ان میں اچانک تیز رفتاری کو سافٹ ویئر کے ذریعے ہموار کرنا، گاڑی کی حرکت کے بارے میں مسافر کو آواز یا نشست کی معمولی ارتعاش کے ذریعے اشارہ دینا اور ری جنریٹو بریکنگ کو اس انداز میں ایڈجسٹ کرنا شامل ہوسکتا ہے کہ رفتار اچانک کم نہ ہو۔

بعض برقی گاڑیوں میں ری جنریٹو بریکنگ کو بند کرنے یا اس کی شدت کو تبدیل کرنے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: کھانے کی خرابی کی بیماری تنہائی میں بڑھتی ہے، حل کیا ہے؟

فی الحال ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ برقی گاڑیوں اور موشن سکنس کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ دستیاب شواہد ابھی اتنے وسیع نہیں کہ یہ حتمی طور پر کہا جاسکے کہ برقی گاڑیاں عام گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ موشن سکنس کا باعث بنتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp