پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار شان شاہد نے بھارت میں کام کرنے کی خواہش رکھنے والے پاکستانی فنکاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کا مؤقف اپنی جگہ لیکن عملی زندگی میں سرحدیں اور ویزا سب کچھ واضح کردیتے ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران شان شاہد نے پاکستانی شوبز انڈسٹری اور بھارت میں کام کرنے کے خواہشمند فنکاروں سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شان شاہد نے بھارت میں کام نہ کرنے کی وجہ بتادی
شان شاہد کا کہنا تھا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ایک فنکار کی کوئی باؤنڈری نہیں ہوتی تاہم اگر کوئی ویزا لے کر سرحد پار جانے کی کوشش کرے تو اسے باؤنڈریز کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ جو لوگ بھارت جاکر رقص، گلوکاری یا دیگر شعبوں میں کام کرتے رہے ہیں وہ ان کی ذاتی زندگی ہے اور وہ اس حوالے سے کسی کو کچھ نہیں کہتے کیونکہ ہر شخص کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔
سینئر اداکار نے سوال اٹھایا کہ بھارت میں ہر ماہ بڑی تعداد میں نئے فنکار سامنے آتے ہیں تو پھر بھارتی انڈسٹری کو پاکستان سے اداکاروں کی ضرورت کیوں پیش آئے گی؟
یہ بھی پڑھیں: کیا شان شاہد اداکارہ ریما خان سے شادی کرنا چاہتے تھے؟
شان شاہد نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی خود کو کشمیری سمجھ کر وہاں کے حالات پر غور کرے تو اسے اندازہ ہوگا کہ وہاں کیا کچھ ہورہا ہے۔
انہوں نے بھارتی حکومت پر مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے متعدد ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ شان شاہد نے مزید کہا کہ بھارت کے معروف اداکار مذہبی رسومات میں شرکت کرتے ہیں اور ماتھا بھی ٹیکتے ہیں جبکہ دوسری جانب مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کو بھی دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: نعمان اعجاز نے شان شاہد کا کیریئر کیسے بچایا؟
شان شاہد کے بھارت میں کام کرنے کے خواہشمند پاکستانی فنکاروں سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
بعض صارفین نے شان شاہد کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں اور ان کا مؤقف درست ہے جبکہ کچھ صارفین نے سینئر اداکار پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شاید انہیں خود بالی ووڈ سے کام کی پیشکش نہیں ہوئی اسی لیے وہ بھارت میں کام کرنے والے فنکاروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔














