خاتون صحافیوں کو جنسی ہراساں کرنے کا واقعہ، اعلیٰ پولیس افسر کے خلاف تحقیقات شروع

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران خاتون صحافی نے دہلی پولیس کے اے سی پی وویک بھگت پر بدسلوکی اور جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے۔

معاملے کی تحقیقات دہلی پولیس کی کرائم برانچ کر رہی ہے، جبکہ پولیس نے ان کی کردار کشی کے لیے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیو کے ایک الگ کیس میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت: خواجہ سرا کارکن نے بھی کانگریس کے رکن اسمبلی پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کردیا

اے سی پی وویک بھگت کا نام جون 2026 میں اس وقت نمایاں ہوا تھا جب چیف جسٹس آف انڈیا سے متعلق احتجاج کے دوران جنتر منتر اور کناٹ پلیس کے علاقوں میں ایک ہجوم نے مبینہ طور پر انہیں گھیر لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے میں ان کے دانت ٹوٹ گئے اور انہیں متعدد چوٹیں آئیں۔ ڈپٹی کمشنر پولیس وینیت کمار نے مداخلت کرکے انہیں ہجوم سے نکالا، جس کے بعد وہ کئی ہفتے طبی رخصت پر رہے۔ صحت یابی کے بعد انہوں نے کناٹ پلیس سرکل میں اے سی پی کی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لیں۔

2 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں کشیدگی پیدا ہوئی۔

احتجاج میں موجود بعض خواتین صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر بدسلوکی اور جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ ایک خاتون نے الزام لگایا کہ اس نے موقع پر خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے بارے میں وویک بھگت سے سوال کیا، جس کے بعد اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا اور اسے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ مجموعی طور پر 3 خواتین نے 3 پولیس افسران کے خلاف شکایات درج کرائیں، جس کے بعد معاملہ کرائم برانچ کے سپرد کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے شلپا شندے کا کیریئر کے آغاز میں بالی ووڈ فلمساز کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا الزام

اس دوران پولیس کی تحقیقات میں ایک الگ معاملہ بھی سامنے آیا۔ پولیس کے مطابق ہریانہ کے ضلع نوح کے رہائشی ندیم احمد نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے وویک بھگت کی ایک قابلِ اعتراض اور جعلی ویڈیو تیار کی اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلایا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو کا مقصد افسر کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ ندیم احمد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تفتیش کار یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ویڈیو کی تیاری اور پھیلاؤ کے پیچھے کوئی وسیع تر سازش تو نہیں تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp