امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ کی سطح پر طلوعِ آفتاب کی ایک شاندار اور سحر انگیز تصویر جاری کی ہے، جسے اس کے گاڑی کے سائز والے ‘کیوریوسٹی روور’ نے عکس بند کیا ہے۔ اس تصویر میں اربوں سال قبل بننے والی نوک دار اور ناہموار چٹانوں پر سورج کی سنہری کرنیں بکھرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔
کیوریوسٹی روور 2012 میں مریخ کے خطِ استوا کے قریب واقع ‘گیل کریٹر’ (Gale Crater) میں اترا تھا اور 2014 سے وہ اس گڑھے کی تہہ سے ابھرنے والے 3 میل (5 کلومیٹر) بلند ‘ماؤنٹ شارپ’ (Mount Sharp) پر پیش قدمی کر رہا ہے۔ 6 پہیوں والے اس روور نے یہ منظر سورج طلوع ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد اپنے ‘ماسٹ کیم’ (Mastcam) کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کیا، جس میں ہوا کے تراشے ہوئے دور دراز کے ٹیلے اور چٹانیں واضح نظر آ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مریخ پر کس تعمیراتی مواد سے گھر بنائے جائیں گے؟
کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے تعلق رکھنے والے کیوریوسٹی پروجیکٹ کے سائنسدان اشون واساواڈا نے بتایا ’دور افق پر نظر آنے والی نوک دار چوٹیوں کی پتھریلی تہہ ساخت میں ان تمام چٹانوں سے بالکل مختلف ہے جن سے اب تک روور گزرا ہے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ یہ کبھی ہوا کے ساتھ اڑ کر آنے والی گاد، ریت یا کسی قریب کے آتش فشاں کی راکھ تھی جو گڑھے میں جمع ہو گئی تھی۔ زمانوں گزرنے کے بعد جب یہ جمی تو ہوا کی مستقل رگڑ نے ان چٹانوں کو مخصوص دھاری دار تہوں (Yardangs) کی شکل دے دی۔‘
سائنسدانوں کے مطابق چٹانوں کی یہ تہہ تقریباً 3 ارب سال پہلے ماؤنٹ شارپ کی تشکیل کے وقت ہی وجود میں آئی تھی اور یہ پہاڑ کے شمال مغربی حصے پر تقریباً 10 میل (16 کلومیٹر) کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ ناسا کے مطابق، پہاڑ کی بتدریج چڑھائی کے دوران روور نے اب تک 0.6 میل (1 کلومیٹر) سے زائد کی بلندی طے کر لی ہے، جو مریخ کی تاریخ میں کسی بھی روور کی سب سے زیادہ چڑھائی ہے۔

ماؤنٹ شارپ کی چٹانیں مریخ کے جیولوجیکل (ارضیاتی) ماضی کی تاریخ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کا مطالعہ کر کے سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ اربوں سال پہلے، جب مریخ آج کے بنجر اور سرد ماحول کے برعکس ایک گرم اور نم آلود سیارہ تھا، تو اس خطے میں جھیلیں اور ندی نالے بہتے تھے۔ ناسا کو امید ہے کہ کیوریوسٹی روور 2027 یا 2028 تک ان مخصوص ‘یارڈانگ’ چٹانوں تک پہنچ جائے گا جہاں وہ ان کے جیو فزیکل ڈھانچے کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔
یہ بھی پڑھیے خلائی ٹوائلٹ صاف کرنے والی خاتون نے مریخ مشن کی قیادت سنبھال لی، اس مقام تک رسائی کیسے ہوئی؟
کیوریوسٹی روور طویل عرصے سے مریخ کے موسم، ارضیات اور وہاں ماضی میں مائیکرو بائیل (بیکٹیریائی) زندگی کی موجودگی کے امکانی شواہد پر تحقیق کر رہا ہے۔ یہ مریخ پر فعال ناسا کے دو روورز میں سے ایک ہے، جبکہ دوسرا روور ‘پرسیویرنس’ مریخ کے شمالی نصف کررے کے ‘جیزیرو کریٹر’ کا معائنہ کر رہا ہے۔
طلوعِ آفتاب کی اس نایاب تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے اشون واساواڈا کا کہنا تھا ’یہ منظر مجھے امریکی ریاست ایریزونا کی وادی ‘مانومنٹ ویلی’ کی یاد دلاتا ہے۔ آپ یہاں کھلے آسمان کے نیچے کی خاموشی اور لامتناہی وسعت کو محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن اس شناسا منظر کے باوجود، یہاں کا آسمان نارنجی ہے اور سورج کے طلوع ہونے کا عکس نیلا دکھائی دیتا ہے۔ یہ بالکل زمین جیسا محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ بلاشبہ مریخ ہی ہے۔‘













