کے پی میں گورنر راج نہیں لگانا چاہتے لیکن اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائےگی، خواجہ آصف

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کوشش یہی ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن کی طرف نہ جائیں گے، لیکن پی ٹی آئی کو دارالحکومت پر چڑھائی کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر لانگ مارچ اسلام آباد آتا ہے کہ وفاقی حکومت ہر قیمت پر وفاقی دارالحکومت کی حفاظت یقینی بنائےگی۔

قبل ازیں ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہاکہ خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت صوبے میں دہشتگردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے، صوبے کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں اور طالبان کے اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے۔

مزید پڑھیں: عدالتی پابندی کے باوجود پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر گھوم رہی ہے، جبکہ اسی دوران اس کے سہولت کاروں نے خیبرپختونخوا کے عوام کے خلاف دہشتگردی کی نئی لہر شروع کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 6 اکتوبر کو دہشتگردوں نے ایک بار پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں 5 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جاں بحق ہونے والوں میں کسٹمز کے 2 اہلکار بھی شامل تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اس سنگین معاملے سے مکمل بے حس صوبائی کابینہ، وزیراعلیٰ سمیت پوری طرح اپنے ناکام سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیشہ کی طرح ان بے حس اور بے شرم لوگوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ان پانچ افراد کے بے گناہ قتل کی مذمت تک نہیں کی، نہ سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی، نہ ان کے جنازوں میں شرکت کی اور نہ ہی کم از کم ان کے گھروں میں جا کر افسوس کا اظہار کیا۔ کسی بھی معیار پر یہ ناقابل معافی ہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ بدقسمتی سے اس کے برعکس وزیراعلیٰ نے آج رات ایک اجلاس طلب کیا ہے، جس میں آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو گورنر کی سیکیورٹی سے متعلق ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے پر ڈانٹ پلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس وزیراعلیٰ نے اپنی جماعت کے کہنے پر بلایا ہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ دہشتگردی کے عذاب میں مبتلا صوبے کے وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ نے خیبرپختونخوا کے عوام کو مکمل طور پر دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام مختلف علاقوں میں صوبائی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اب یہ مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا، خیبرپختونخوا کے عوام کا بہت خون بہہ چکا ہے۔

وزیر دفاع نے کہاکہ اس حکومت اور دہشتگردوں کے درمیان مکمل گٹھ جوڑ ہے اور اس کے سہولت کار نظام کی بہت سی مثالیں اور شواہد موجود ہیں، جنہیں گزشتہ تین سال کے دوران ہر پاکستانی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں نواز شریف اور ان کے پورے خاندان سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت جیلوں میں قید رہی، وقت نے ثابت کر دیا کہ الزامات صرف الزامات تھے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) نے ملک اور اداروں کو یرغمال نہیں بنایا، عدالتوں اور پارلیمنٹ میں قانونی اور آئینی جنگ لڑی اور طالبان کے ساتھ اتحاد نہیں کیا۔ اب اہم فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی مذاکرات کی آفر اب بھی موجود، پی ٹی آئی پہلے لانگ مارچ ختم کرے، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں اور طالبان کے اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

خواجہ آصف نے کہاکہ ملک کے اتحاد کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا اور پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، اب بہت ہوچکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp