وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کوشش یہی ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن کی طرف نہ جائیں گے، لیکن پی ٹی آئی کو دارالحکومت پر چڑھائی کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر لانگ مارچ اسلام آباد آتا ہے کہ وفاقی حکومت ہر قیمت پر وفاقی دارالحکومت کی حفاظت یقینی بنائےگی۔
قبل ازیں ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہاکہ خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت صوبے میں دہشتگردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے، صوبے کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں اور طالبان کے اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے۔
مزید پڑھیں: عدالتی پابندی کے باوجود پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر گھوم رہی ہے، جبکہ اسی دوران اس کے سہولت کاروں نے خیبرپختونخوا کے عوام کے خلاف دہشتگردی کی نئی لہر شروع کر رکھی ہے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی صوبے میں دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی جاری …بس بہت ہوگیا!!!
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر گھوم رہی ہے جب کہ ان کے سہولت کاروں نے اِسی دوران KPK کے لوگوں کے خلاف ایک تازہ دہشت گردی کی لہر شروع کر دی ہے۔ 6 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر 5 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہلاک ہونے والے ان 5 میں سے دو کسٹم اہلکار تھے
اس سنجیدہ معاملے سے مکمل طور پر بے حس، مکمل صوبائی کابینہ، وزیر اعلیٰ سمیت، اپنے سیاسی ناکام لانگ مارچ میں پوری طرح مشغول ہے
ان بے حس اور بے شرم لوگوں نے ہمیشہ کی طرح ڈی آئی خان میں ان پانچ افراد کے بے گناہ قتل کی بھی پہلے کی طرح کوئی مذمت نہیں کی، سوگوار خاندانوں سے کوئی تعزیت نہیں کی، ان کے جنازے نہیں میں پڑھے یا کم از کم دیکھانے کی حد تک ہی صحیح ان کے گھروں تک جا کر افسوس نہیں کیا۔ یہ کسی بھی اعتبار سے نا قابل معافی ہے
بدقسمتی سے، اس کے برعکس، وزیراعلیٰ نے رات گئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کے پی کے کو اپنی پارٹی کے کہنے پر گورنر کی سیکیورٹی میٹنگ میں شرکت پر آج سرزنش کرنے کے لئے اجلاس بلا رکھا ہے
ایک صوبہ جو دہشت گردی کی زد میں ہے اس کے وزیر اعلیٰ اور اسکی کابینہ نے صوبے کی عوام کو پوری طرح دہشت گردوں کے رحم پر چھوڑ دیا ہے۔ اسی لیے کے پی کے کے عوام مختلف علاقوں میں صوبائی حکومت کے خلاف پر سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں
یہ مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کے پی کے کے لوگوں کا کافی خون بہایا جا چکا ہے، اس حکومت کی دہشت گردوں سے مکمل ملی بھگت اور اس کے سہولت کار ایکو سسٹم کی کافی مثالیں اور شواہد موجود ہیں۔ جو ہر پاکستانی پچھلے تین سالوں میں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکے ہیں
ماضی میں نواز شریف اور اسکا پورا خاندان اور PMLN کی قیادت pti کے دور میں قید رہی۔وقت نے ثابت کیا کہ الزام بس الزام تھے۔ عمران خان کی فرمائش قید کیا جاتا تھا۔ مگرPMLN نے اپنے پارلیمنٹ اپنے رول کو آئین ذمہ داری سے نبھایا ۔ ملک اور اداروں یرغمال نہ بنایا۔ عدالتوں اور پارلیمنٹ میں قانونی اور آئینی جنگ لڑی۔ طالبان کے اتحادی نہ بنے ۔
اہم فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے KPK کو مزید نا اہل، بے حس حکمران و طالبان کے اتحادیوں کے رحم او کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا. ۔ ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ ایک پورے صوبے کو یرغمال نہیں جاسکتا۔ enough is enough— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 7, 2026
انہوں نے کہا کہ 6 اکتوبر کو دہشتگردوں نے ایک بار پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں 5 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جاں بحق ہونے والوں میں کسٹمز کے 2 اہلکار بھی شامل تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اس سنگین معاملے سے مکمل بے حس صوبائی کابینہ، وزیراعلیٰ سمیت پوری طرح اپنے ناکام سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیشہ کی طرح ان بے حس اور بے شرم لوگوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ان پانچ افراد کے بے گناہ قتل کی مذمت تک نہیں کی، نہ سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی، نہ ان کے جنازوں میں شرکت کی اور نہ ہی کم از کم ان کے گھروں میں جا کر افسوس کا اظہار کیا۔ کسی بھی معیار پر یہ ناقابل معافی ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ بدقسمتی سے اس کے برعکس وزیراعلیٰ نے آج رات ایک اجلاس طلب کیا ہے، جس میں آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو گورنر کی سیکیورٹی سے متعلق ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے پر ڈانٹ پلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس وزیراعلیٰ نے اپنی جماعت کے کہنے پر بلایا ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ دہشتگردی کے عذاب میں مبتلا صوبے کے وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ نے خیبرپختونخوا کے عوام کو مکمل طور پر دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام مختلف علاقوں میں صوبائی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اب یہ مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا، خیبرپختونخوا کے عوام کا بہت خون بہہ چکا ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ اس حکومت اور دہشتگردوں کے درمیان مکمل گٹھ جوڑ ہے اور اس کے سہولت کار نظام کی بہت سی مثالیں اور شواہد موجود ہیں، جنہیں گزشتہ تین سال کے دوران ہر پاکستانی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں نواز شریف اور ان کے پورے خاندان سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت جیلوں میں قید رہی، وقت نے ثابت کر دیا کہ الزامات صرف الزامات تھے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) نے ملک اور اداروں کو یرغمال نہیں بنایا، عدالتوں اور پارلیمنٹ میں قانونی اور آئینی جنگ لڑی اور طالبان کے ساتھ اتحاد نہیں کیا۔ اب اہم فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی مذاکرات کی آفر اب بھی موجود، پی ٹی آئی پہلے لانگ مارچ ختم کرے، رانا ثنااللہ
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں اور طالبان کے اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ ملک کے اتحاد کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا اور پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، اب بہت ہوچکا۔














