بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات، حکومت 2 سال کے عرصے میں تعلیمی شعبے میں کیا بہتری لا سکی؟

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان حکومت نے تعلیم، صحت اور امن و امان کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے گزشتہ 2 برس کے دوران تعلیمی شعبے میں داخلوں میں اضافے، اسکولوں کی فعالیت، اساتذہ کی بھرتی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔

حکومت بلوچستان کے مطابق گزشتہ 2 برس کے دوران 7 لاکھ 86 ہزار سے زیادہ بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا، جن میں 2025 میں 2 لاکھ 31 ہزار جبکہ 2026 میں اب تک 2 لاکھ 81 ہزار بچوں کا اسکولوں میں داخلہ شامل ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا مجموعی تعلیمی بجٹ 2311 ارب روپے مقرر، بلوچستان فی کس بجٹ میں پنجاب سے تقریباً دُگنا آگے

حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے کمیونٹی اسکولوں کے ذریعے مزید ایک لاکھ 54 ہزار بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے گئے، جبکہ غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال کرنے کے نتیجے میں 95 ہزار سے زیادہ بچے دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل ہوئے۔

حکام کے مطابق تعلیمی نظام میں بچوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ حکومت نے تدریسی عمل کو مضبوط بنانے کے لیے 15 ہزار سے زیادہ اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے، جبکہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور تدریسی ماحول بہتر بنانے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔

بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 ہزار سے زیادہ نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مزید ایک ہزار 800 اسکولوں کے قیام پر کام جاری ہے۔

سرکاری اسکولوں کے تازہ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2026 تک بلوچستان میں 14 ہزار 709 سرکاری اسکول، تقریباً 11 لاکھ 99 ہزار زیر تعلیم طلبہ اور 80 ہزار 614 اساتذہ و عملہ موجود تھا۔

حکومت بلوچستان کے مطابق مستقبل میں تعلیمی نظام کی نگرانی اور اسکولوں کی فعالیت پر بھی توجہ دی جائےگی۔

حکومت کے مطابق صوبے میں ہزاروں غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ اساتذہ کی حاضری، اسکولوں کی فعالیت اور تعلیمی معیار کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ تعلیم کے ساتھ صحت اور امن و امان کو بھی حکومتی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا مقصد صرف بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانا نہیں بلکہ اسکولوں کو فعال، اساتذہ کو دستیاب اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 2 برس کے دوران تعلیمی شعبے میں سب سے نمایاں تبدیلی تعلیمی سہولیات تک رسائی بڑھانے کی کوشش ہے۔ لاکھوں بچوں کے داخلے، غیر فعال اسکولوں کی بحالی، نئے کمیونٹی اسکولوں کا قیام اور ہزاروں اساتذہ کی بھرتی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت نے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو فعال بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔

’سرکاری اعدادوشمار سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تعلیمی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، تاہم بلوچستان اب بھی اس معاملے میں سب سے پیچھے ہے۔‘

صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 45 فیصد بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں، جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح 52 فیصد ہے۔

اس لیے اصل چیلنج اب صرف یہ نہیں کہ ’کتنے بچے اسکول آئے‘ بلکہ یہ ہے کہ ان بچوں کو اسکول میں کیسے برقرار رکھا جائے، بالخصوص دیہی علاقوں کی بچیوں کو مڈل اور ہائی اسکول کی سطح تک کیسے پہنچایا جائے، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی معیار کو کیسے بہتر بنایا جائے اور نئے فعال کیے گئے اسکولوں میں مستقل بنیادوں پر عمارت، پانی، واش روم، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کیسے یقینی بنائی جائیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات کے مثبت نتائج، 7 لاکھ سے زیادہ بچوں کا داخلہ

خود محکمہ تعلیم کے تازہ اعدادوشمار میں پرائمری سے مڈل کی سطح پر داخلوں میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ اب اگلا بڑا امتحان صرف بچوں کو اسکول میں داخل کرانا نہیں بلکہ انہیں تعلیم مکمل کروانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp