35 روپے ماہانہ سے کروڑوں کے اثاثوں تک: نانا پاٹیکر کی جدوجہد، کامیابی اور سادہ زندگی کی داستان

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعرات کی صبح بالی ووڈ کے سینئر اور معروف اداکار نانا پاٹیکر انتقال کر گئے، تاہم وہ کبھی بھی روایتی بالی ووڈ سپر اسٹارز کی مانند نہیں رہے۔

بالی ووڈ میں بغیر کسی خاندانی تعارف کے آنے والے نانا پاٹیکر نے ایک انتہائی غریب اور خود ساختہ پس منظر سے اٹھ کر صرف اپنی شاندار فنکارانہ صلاحیتوں کی بدولت انڈسٹری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔

ایک انٹرویو میں اپنی ماضی کی تلخ یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا تھا کہ وہ نویں جماعت میں اسکول کے بعد روزانہ آٹھ کلومیٹر پیدل چل کر ممبئی کے علاقے چونا بھٹی جاتے تھے، جہاں وہ فلمی پوسٹر پینٹ کر کے ماہانہ صرف 35 روپے کماتے تھے اور دن میں محض ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  لیجنڈری بھارتی اداکار نانا پاٹیکر چل بسے

نانا پاٹیکر کے مطابق ان کے والد کی جائیداد چھن جانے کے بعد ان کے خاندان کی معاشی حالت انتہائی خراب ہو گئی تھی۔ غربت اور بھوک کے ان تلخ تجربات کے اثرات ان کے ذہن پر سالہا سال تک رہے۔ تاہم یہی ابتدائی سخت جدوجہد آگے چل کر ان کے اس شاندار کریئر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جس کے ذریعے انہوں نے ہندی اور مرآٹھی سنیما سے کروڑوں روپے کے اثاثے بنائے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق ان کی کل جائیداد کا تخمینہ 60 کروڑ سے 80 کروڑ روپے کے درمیان لگایا گیا ہے۔

نانا پاٹیکر کا سفر: غربت سے کروڑوں کے مالک بننے تک

نانا پاٹیکر کو بالی ووڈ میں پہلا بریک 1978 میں فلم ’گمن‘ سے ملا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھارتی سنیما کے سب سے محترم اور باصلاحیت اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔ ’پرندہ‘، ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’اب تک چھپن‘، ’نٹ سمراٹ‘ اور ’ویلکم‘ جیسی سپر ہٹ فلموں نے انہیں گھر گھر مقبول بنا دیا۔

ان کے کریئر کے ساتھ ساتھ ان کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ایک فلم کے لیے 2 سے 3 کروڑ روپے معاوضہ لیتے تھے، جبکہ دیگر تقاریب اور برانڈز کی توثیق سے بھی کمائی کرتے تھے۔ تاہم کروڑوں روپے کے مالک ہونے کے باوجود نانا پاٹیکر اپنی انتہائی سادہ زندگی کے لیے جانے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں موت سے قبل نانا پاٹیکر نے دوست کو کیا پیغام بھیجا؟ ڈاکٹر نے اداکار کے آخری لمحات کی تفصیلات بتا دیں

وہ دہائیوں تک ممبئی کے علاقے اندھیری میں اپنے 750 اسکوائر فٹ کے ایک بیڈ روم والے اپارٹمنٹ میں مقیم رہے، جسے انہوں نے دہائیوں قبل صرف 1.1 لاکھ روپے میں خریدا تھا اور آج اس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ روپے کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک جائیداد گوا میں اور پونے کے قریب کھڑک واسلا میں 27 ایکڑ پر محیط ایک فارم ہاؤس تھا، جہاں وہ باقاعدہ کاشتکاری کرتے اور گندم و چاول کی فصلیں اگاتے تھے۔

نانا پاٹیکر کی گاڑیوں کی مجموعی کلیکشن بھی دیگر بالی ووڈ اسٹارز کے مقابلے میں بہت سادہ تھی۔ ان کے پاس مہندرا جیپ CJ4، مہندرا اسکارپیو اور ایک آڈی Q7 گاڑی تھی۔

عیش و عشرت اور لگژری لائف اسٹائل نے کبھی ان کے فیصلوں پر اثر نہیں ڈالا۔ ایک بار انہوں نے 1.5 کروڑ روپے کی ایک انتہائی قیمتی لگژری کار خریدنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ وہ اس رقم کو کار پر خرچ کرنے کے بجائے غریب کسانوں کی مدد کے لیے استعمال کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔

نانا پاٹیکر کے لیے غربت سے ثروت تک کا یہ سفر صرف بینک اکاؤنٹ کے ہندسوں تک محدود نہیں تھا۔ ان کے اپنے الفاظ میں، ان کی ابتدائی زندگی کی سخت معاشی جدوجہد نے ہی پیسے، خوراک اور کامیابی کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو سنوارا اور انہیں ہمیشہ زمین سے جڑا رکھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف

پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

اخراجات میں کمی کا دباؤ، جاپان کا 44 ارب ڈالر کے سرکاری فنڈز کی جانچ پڑتال کا فیصلہ

یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی بھرتی بند کی جائے، انسانی حقوق تنظیم کا مطالبہ

ویڈیو

حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟

پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

لانگ مارچ کے دوران خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کا خدشہ: قیمتیں آسمان پر، حکومتی اقدامات پر سوالات

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی