جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی معروف قانون دان ناوی پلے نے 2026 کا نوبیل امن انعام جیت لیا ہے۔ انہیں بین الاقوامی قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگی جرائم و نسل کشی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے طویل جدوجہد کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا ہے۔
ناوی پلے بھارتی تامل نژاد خاندان میں 1941 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیدا ہوئیں، جہاں اس وقت نسلی امتیاز کا نظام رائج تھا۔ انہوں نے وکالت کے شعبے میں قدم رکھا اور نسلی امتیاز، تفریق اور سماجی محرومی کے خلاف قانونی جدوجہد کی۔ اپنے ابتدائی دور میں انہوں نے نیلسن منڈیلا اور نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانے والے دیگر افراد کا دفاع بھی کیا۔
2026 Nobel Peace Prize laureate Navi Pillay’s commitment to universal legal principles and her firm moral compass are constants in a long career. Born into a family of Indian Tamil origin under apartheid in Durban, South Africa, Pillay became a lawyer and legal pioneer,… pic.twitter.com/j2wve4ywZ8
— The Nobel Prize (@NobelPrize) October 9, 2026
نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے نے اپنے طویل کیریئر میں بین الاقوامی قانون کے دائرے اور اثرات کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ جنوبی افریقہ کی ہائیکورٹ، روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جج کے عہدے پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں۔
ناوی پلے نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی بھی کی۔ وہ عالمی عدالت انصاف میں میانمار کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:‘انعام جیتنے والی خاتون کی بہت مدد کی تھی،’ ٹرمپ کا نوبیل پرائز نہ ملنے کے بعد پہلا ردعمل
نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے نے اہم بین الاقوامی مقدمات میں یہ واضح کیا کہ قانونی اقدامات جنگی کارروائیوں اور تشدد کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے اداروں کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔
کمیٹی نے ان کی خودمختارانہ سوچ، قانونی مہارت اور اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے انہیں عصر حاضر کی نمایاں اور قابلِ احترام بین الاقوامی قانون دانوں میں شمار کیا۔













