پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال سے نومولود کے مبینہ اغوا کا معمہ پولیس نے حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق بچے کو اسپتال سے لے جانے والی خاتون نے مبینہ طور پر 50 ہزار روپے ادا کرکے نومولود حاصل کیا، جبکہ واقعے میں اسپتال کے اندر موجود ایک خاتون کی مبینہ معاونت بھی سامنے آئی ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ بچے کو مبینہ طور پر ایک ایسی خاتون نے اسپتال سے اٹھایا جس کی اپنی اولاد نہیں تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون ایک شخص کی دوسری بیوی تھی اور اس نے بچے کے حصول کے لیے اسپتال میں موجود ایک خالہ کو 50 ہزار روپے ادا کیے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: ایل آر ایچ سے نومولود اغوا، سرکاری اسپتال جانا غریب خاتون کو اولاد سے محروم کرگیا
تفتیشی حکام کے مطابق اسپتال کے اندر موجود کسی شخص کی مبینہ معاونت کے بغیر نومولود کو وارڈ سے باہر لے جانا آسان نہیں تھا، جس کے باعث واقعے میں اسپتال کے داخلی نظام، سیکیورٹی اور عملے کے کردار کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب اسپتال ترجمان کی ویڈیو نے بھی سوالات کھڑے کردیے، واقعے کے بعد لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً ڈھائی منٹ کی ویڈیو بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
ترجمان کی جانب سے واقعے میں والدین کی مبینہ غفلت کو نمایاں کیا گیا، تاہم پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں اسپتال کے اندر سے مبینہ سہولت کاری کا پہلو بھی سامنے آ رہا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نومولود کو اسپتال سے باہر لے جانے میں اندرونی معاونت کا امکان موجود ہے تو کیا صرف والدین کی غفلت کو واقعے کی بنیادی وجہ قرار دینا درست ہوگا؟ یہ واقعہ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: نومولود بچی حلیمہ اغوا کے 18 گھنٹے بعد بازیاب، والد سمیت 4 ملزمان گرفتار
نومولود بچے کے مبینہ اغوا کا یہ واقعہ صرف والدین کی غفلت تک محدود کرکے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس کی تحقیقات میں اگر اسپتال کے اندر سے مبینہ سہولت کاری سامنے آئی ہے تو اس پہلو کی بھی مکمل اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
واضح رہے کہ 30 ستمبر 2026 کو لیڈی ریڈنگ اسپتال کے لیبر روم سے نومولود بچہ اغوا ہوا تھا گزشتہ روز خصوصی پولیس ٹیموں نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بچے کو اغوا کرنے میں ملوث مرکزی ملزمہ مسماۃ (س) کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق نومولود بچے کی نانی مسماۃ (ع) بیوہ احمد گل نے 30 ستمبر کو لیبر روم سے بچے کے اغوا کی رپورٹ درج کرائی تھی، جبکہ بچے کے والد کا تعلق حشمت خان سکنہ شبقدر کلا مورونہ سے ہے۔













