حال ہی میں سامنے آنے والی ایک نئی تحقیق میں فالج، یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی بیماری ڈیمنشیا اور بڑھاپے میں ڈپریشن کے ساتھ منسلک 17 مشترکہ خطرے کے عوامل سامنے آئے ہیں۔
محققین کے مطابق بلڈ پریشر اور خون میں شکر کو قابو میں رکھنے، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور بہتر نیند جیسی عادات اپنا کر دماغی صحت کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
امریکا کے ادارے میساچوسٹس جنرل بریگھم کے محققین نے سابقہ تحقیقات کا جائزہ لے کر ان عوامل کی نشاندہی کی جنہیں صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کا ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے منفرد اور جدید طرز کی بستی قائم کرنے کا اعلان
تحقیق کے نتائج طبی جریدے ’جرنل آف نیورولوجی، نیوروسرجری اینڈ سائیکاٹری‘ میں شائع ہوئے۔ محققین نے ان خطرات کے معیارِ زندگی اور اموات پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا۔
تحقیق کے مطابق مشترکہ خطرے کے عوامل میں بلڈ پریشر، گردوں کی بیماری، خالی پیٹ خون میں شکر کی سطح، کولیسٹرول، شراب نوشی، غیر متوازن غذا، سماعت میں کمی، دائمی درد، جسمانی سرگرمی کی کمی، زندگی میں مقصد کا فقدان، نیند کے مسائل، تمباکو نوشی، سماجی میل جول اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان عوامل میں سے بعض کم از کم دو بیماریوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ تمام عوامل کا ہر بیماری سے یکساں تعلق ثابت نہیں ہوا۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور میساچوسٹس جنرل اسپتال کی برین کیئر لیبز کی محقق ڈاکٹر سنجولا سنگھ کے مطابق ان عوامل کی نشاندہی دماغی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے امید افزا امکانات فراہم کرتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تمام تبدیلیوں کے لیے بیک وقت کام کرنے کے بجائے ایک سے تین آسان اور قابلِ عمل اقدامات سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی، نمک کا استعمال کم کرنا، پھل اور سبزیاں کھانا، مناسب نیند لینا، جسمانی طور پر متحرک رہنا اور سماجی تعلقات برقرار رکھنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے کیا موٹاپا، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی ڈیمنشیا کی وجہ بن سکتے ہیں؟
ماہرین نے واضح کیا کہ تحقیق میں سامنے آنے والے عوامل اور بیماریوں کے درمیان تعلق تو موجود ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر عامل براہِ راست ان بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
محققین نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سابقہ مطالعات کے تجزیے پر انحصار کے باعث بعض اہم عوامل نظرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین کے مطابق علامات ظاہر ہونے سے پہلے دماغی صحت کا خیال رکھنا اور طرزِ زندگی میں بتدریج بہتری لانا طویل مدتی صحت کے لیے اہم ہے۔














