مقبوضہ جموں وکشمیر کے دارالحکومت سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایوارڈ یافتہ فلم ساز عرفات شیخ، جو 2019 سے امریکا میں مقیم ہیں، کو بالآخر امریکی امیگریشن حکام نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔
عرفات شیخ کی رہائی کے لیے قائم تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان کی منگل کے روز ضمانت منظور کی گئی تھی جس کے بعد جمعرات کو انہیں آئی سی ای کی تحویل سے آزاد کر دیا گیا۔
تنظیم کے مطابق، بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کو اپنی فلموں کا موضوع بنانے والے عرفات شیخ کو 24 ستمبر کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ کیلیفورنیا سے پرواز کے ذریعے واشنگٹن کے ‘ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ پہنچے تھے۔
ریاست ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں رہائش پذیر عرفات شیخ 2019 میں اسٹوڈنٹ ویزے پر جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں فلم سازی میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے امریکا آئے تھے اور انہوں نے 2020 میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔ تنظیم کے مطابق ان کی پناہ کی درخواست تاحال التوا میں ہے اور ان کے پاس امریکا میں قیام اور کام کرنے کا قانونی پرمٹ موجود تھا۔
Kashmiri filmmaker Arfat Sheikh released from US ICE detention, campaign says https://t.co/KlPXVp8FN6 https://t.co/KlPXVp8FN6
— Reuters (@Reuters) October 9, 2026
دوسری جانب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا موقف ہے کہ عرفات شیخ قانونی طور پر عارضی ویزے پر امریکا داخل ہوئے تھے تاہم انہوں نے مقررہ مدت سے زائد قیام کیا۔
ادارے نے واضح کیا کہ محض درخواست زیرِ التوا ہونے سے کسی غیر ملکی کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہو جاتی، تاہم انہیں قانون کے مطابق اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جائے گا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ ان غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے پر کام کر رہی ہے جو مختصر مدت کے ویزے پر امریکا آتے ہیں اور بعد میں مستقل قیام کے لیے سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کر دیتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور تارکینِ وطن کی بیدخلی کی مہم جاری ہے، جسے انتظامیہ اندرونی سیکیورٹی کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سخت پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بنیادی انسانی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہو رہی ہے اور بالخصوص نسلی اقلیتوں کے لیے خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ عرفات شیخ کی 2024 میں ریلیز ہونے والی فیچر فلم ’سیفران کنگڈم‘ نے عالمی سطح پر کافی مقبولیت حاصل کی اور اسے ‘شکاگو فلم میکرز ایوارڈز’، ‘ایل اے فلم اینڈ ڈاکومنٹری ایوارڈز’، ‘میلبورن انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول’ اور ‘ویک فارسٹ فلم فیسٹیول’ میں بہترین فیچر فلم کے ایوارڈز سے نوازا گیا۔
اس کے علاوہ انہیں ‘ٹینیک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول’ میں ‘ایمرجنگ فلم میکر ایکٹیوسٹ ایوارڈ’ بھی مل چکا ہے۔ اس فلم میں 1990 کے دہائی میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے 2019 میں ایٹلانٹا منتقل ہونے والے ایک کشمیری خاندان کی کہانی کے ذریعے خطے کے تنازع کی عکاسی کی گئی ہے۔













