پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آج آخری روز تیزی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
مارکیٹ میں بہتری کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان قرار دیا گیا کہ امریکا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف معاہدے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں 569 پوائنٹس اضافہ
کاروبار کے آغاز کے بعد صبح ساڑھے 9 بجے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 601.43 پوائنٹس یعنی 0.36 فیصد اضافے کے بعد 168,043.33 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے حصص میں خریداری دیکھی گئی۔
Pakistani equities extended losses as KSE100 dropped 1,139 pts (-0.68%) to 167,442 and KMI30 fell 1,444 pts (-0.60%) to 240,418. Crude oil advanced to $102.74 (+2.53%), Gold jumped to $4,208/oz (+1.62%), 6M T-Bills remained unchanged at 12.23%, and USD/PKR held steady at 277.01. pic.twitter.com/FONL67x7mY
— Al Meezan Investment (@AlMeezanGroup) October 9, 2026
حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے مارکیٹ میں نمایاں وزن رکھنے والی کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یعنی جمعرات کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید فروخت کا رجحان ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
کے ایس ای 100 انڈیکس 1,138.50 پوائنٹس یعنی 0.68 فیصد کمی کے بعد 167,441.91 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعہ کو بھی دباؤ برقرار رہا، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار توانائی کی بلند قیمتوں، بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کے اخراجات سے متعلق خدشات کا جائزہ لیتے رہے۔
ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 103.70 ڈالر فی بیرل رہی۔

گزشتہ سیشن میں قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی رسد اور مہنگائی سے متعلق خدشات تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
تاہم، تاجروں نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیشرفت کے امکانات پر شکوک کا اظہار کیا۔
عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں جاپان کا نکی انڈیکس ایک فیصد سے زیادہ گر گیا، جبکہ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.16 فیصد نیچے رہا۔













