یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کو بھرتی کرنے اور انہیں جنگی سرگرمیوں میں استعمال کرنے پر نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس نےسخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کو مسلح تنازعات میں شامل کرنے سے ان کی جان، سلامتی اور مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے، جبکہ وہ تعلیم اور محفوظ زندگی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔
تنظیم نے مختلف بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے بچوں کی بھرتی اور انہیں فوجی نوعیت کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس نے ان اقدامات کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور مسلح تنازعات میں بچوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، دفاع کے لیے بھرپور حمایت کا اعادہ
انسانی حقوق تنظیم نے زور دیا کہ ان خلاف ورزیوں کی صرف مذمت یا دستاویز بندی کافی نہیں، بلکہ بھرتی کیے گئے بچوں کو رہا کرانے، انہیں دوبارہ بھرتی ہونے سے بچانے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
تنظیم نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ بچوں کی بھرتی اور استحصال روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اس عمل میں ملوث افراد کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ بچوں کو جنگی تنازعات میں جھونکنے سے تشدد اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوتا ہے، تنازعات طول پکڑتے ہیں اور امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
تنظیم نے متاثرہ بچوں کی بحالی، انہیں ان کے خاندانوں اور اسکولوں میں واپس لانے اور نفسیاتی و سماجی مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس کے مطابق بچوں کا اصل مقام گھر، اسکول اور معاشرہ ہے، میدانِ جنگ نہیں۔













