بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف حزبِ اختلاف اور نوجوانوں کی تحریک کے طے شدہ احتجاجی مظاہروں سے قبل دارالحکومت نئی دہلی کو سیکیورٹی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

بھارت کے انتخابی ادارے ‘الیکشن کمیشن آف انڈیا’  کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی ’خصوصی تفصیلی نظرثانی‘  کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاجی لہر جاری ہے۔

اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام ووٹرز کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کرنے اور وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت ‘بھارتیہ جنتا پارٹی’ (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیے ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں پر بھارت میں احتجاج شدت اختیار کرگیا، راہول گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن ارکان گرفتار

دہلی میں ہفتے کے روز ہونے والے متوقع بڑے احتجاجی مظاہرے سے قبل حکام نے سخت ترین سیکیورٹی تدابیر اختیار کی ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے دارالحکومت کے مرکزی علاقوں اور احتجاج کے لیے مخصوص مقام ‘جنتر منتر’ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پیلے رنگ کی دھاتی رکاوٹیں (بیری کیڈز) کھڑی کر کے نقل و حرکت شدید محدود کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، دہلی پولیس نے ‘جنتر منتر’ پر کسی بھی قسم کے اجتماع کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر 57 میٹرو اسٹیشنوں کے اینٹری اور ایگزٹ گیٹس کو جمعے کی رات 9 بجے سے ہفتے کے دن حالات نارمل ہونے تک بند رکھے۔

اس کے علاوہ ہفتے کے روز شہر کے دو اہم ریلوے اسٹیشنوں پر آنے والی کئی ٹرینوں کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

سیاسی میدان میں بھی سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ قومی اسمبلی (لوک سبھا) میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس رہنما راہول گاندھی، جنہیں رواں ہفتے احتجاج کے دوران کچھ دیر کے لیے حراست میں بھی لیا گیا تھا، دیگر سینئر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ صدرِ مملکت دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف شکایت درج کروانے والے ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے شفافیت کا اعادہ کیا ہے۔

دوسری جانب، نوجوانوں کی طنز و مزاح پر مبنی مقبول سیاسی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے بھی ہفتے کے روز نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر ‘جنتر منتر مارچ’ کی کال دے رکھی ہے۔ تحریک کا دعویٰ ہے کہ پولیس ان کے رضاکاروں اور حامیوں کو مظاہرے سے قبل بلاجواز حراست میں لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

سی جے پی کے سرگرم رکن سورو داس نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں الزام عائد کیا کہ ’دہلی پولیس بی جے پی کی نجی ملیشیا کی طرح کام کر رہی ہے۔‘ جبکہ سی جے پی کے سربراہ ابھیناو دیپکے نے پولیس کی کارروائیوں کو دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ’مودی صاحب! یہ دھمکیاں اب کام نہیں کریں گی۔ اس ملک کا نوجوان اب آپ سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ میں کل ہر صورت دہلی پہنچ رہا ہوں اور ہم جنتر منتر کی طرف مارچ کریں گے۔‘

حکام اور پولیس کی جانب سے مظاہرین کے ان الزامات پر فی الحال کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دارالحکومت میں حالات انتہائی کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp