عالمگیر شرحِ سود اور قرضوں میں اضافے کا خدشہ، امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 6 فیصد تک پہنچنے کا امکان

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی مالیاتی مارکیٹ میں بانڈز کی فروخت کے شدید دباؤ کے باعث امریکی بانڈ مارکیٹ میں بڑا متوقع بوجھ سامنے آیا ہے۔

برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دنیا کے معروف بانڈ فنڈ مینیجر پمکو کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر ڈین آئیواسن نے کہا کہ تکنیکی عوامل اور مارکیٹ کے حالات کے باعث مختصر مدت میں 10 سالہ ٹریژری ییلڈ میں 6 فیصد تک کا اضافہ مکمل طور پر ممکن دکھائی دیتا ہے۔

رواں برس 10 سالہ امریکی بانڈ کی ییلڈ میں تقریباً 120 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے اور یہ گزشتہ ہفتے 5.34 فیصد کی سطح کو چھونے کے بعد فی الوقت 5.29 فیصد کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔ 5.34 فیصد کی یہ سطح سن 2002 کے بعد سے اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔

آئیواسن کے مطابق، ہیج فنڈز اور لیوریجڈ سرمایہ کاروں کی جانب سے نقصان میں چلنے والے بانڈز کی پوزیشنز ختم کرنے (سٹاپ آؤٹ سرگرمیوں) سے مارکیٹ پر نفی اثرات پڑے ہیں، جس سے ییلڈ میں مزید فوری اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر یہ ییلڈز 5.5 فیصد یا اس سے اوپر جاتی ہیں تو اسٹاکس اور کارپوریٹ بانڈز جیسے خطرناک اثاثوں (Riskier Assets) میں زبردست کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس سے کریڈٹ اور ایکوئٹی دونوں مارکیٹوں کو نمایاں نقصان پہنچے گا۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں برس توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس  کی بدولت معاشی نمو میں تیزی نے سرمایہ کاروں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ طویل عرصے تک بلند شرحِ سود کے دور کے لیے خود کو تیار رکھیں۔

جب بانڈز کی قیمتیں گرتی ہیں تو ان کی ییلڈز میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ میں اس صدی کا سب سے بڑا سہ ماہی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp