بلوچستان کابینہ کے اہم فیصلے، 16 لاکھ بچوں کو تعلیم کے دھارے میں لانے کا ہدف

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے، معدنی وسائل سے حاصل فنڈز کے مؤثر استعمال، بند صنعتوں کی بحالی اور سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت سمیت متعدد اصلاحات کی منظوری دے دی گئی۔

وزیراعلیٰ کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کے مطابق کابینہ نے بلوچستان غیر رسمی تعلیم ایکٹ 2025 کی منظوری دی، جس کے تحت 10 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 16 لاکھ بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں دوہری تدریسی شفٹ شروع کرنے کی پالیسی بھی منظور کی گئی تاکہ موجودہ عمارتوں سے زیادہ مؤثر انداز میں استفادہ کیا جا سکے۔

کابینہ نے بلوچستان معدنی ترقیاتی فنڈ کے استعمال کی پالیسی کے ساتھ صوبائی سیاحتی اور ثقافتی پالیسیوں کے مسودوں کی منظوری بھی دی۔ بند اور غیر فعال صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے مالی معاونت اور رعایتیں فراہم کرنے کی پالیسی منظور کی گئی، جبکہ آسان کاروبار ایکٹ 2026 کی منظوری سے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے عوام کی مشکلات کم کرنا اولین ترجیح ہے، سرفراز بگٹی

سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت کے لیے بلوچستان سرکاری خریداری قواعد 2014 میں ترامیم منظور کی گئیں۔ ان کے تحت 5 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے ٹینڈرز میں الیکٹرانک بولیاں وصول کرنا لازمی بنانے کی تجویز شامل ہے۔ پیٹی پرچیز کی حد ایک لاکھ سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے اور کوٹیشن کے ذریعے خریداری کی حد دو لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن اور صحت عامہ سے متعلق قوانین کی منظوری دی گئی، جبکہ بلوچستان ادارہ برائے امراض گردہ کوئٹہ کے سربراہ کے طور پر پروفیسر عبدالرازق کی عبوری تعیناتی منظور کی گئی۔ کابینہ نے خواتین کے تحفظ سے متعلق قانون سازی اور تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں خواتین کے لیے محفوظ دارالامان تعمیر کرنے کے جامع منصوبے کی تیاری کی ہدایت بھی دی۔

اجلاس میں نادرا کے ذریعے ای ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس کے اجرا کی منظوری دی گئی۔ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ 200 روپے فیس ختم ہوگی، تاہم نادرا کی مقررہ فیس لاگو رہے گی۔ نئے اضلاع میں ضلع کونسلوں کے قیام، کوئٹہ میں عوامی پارک اور شہری جنگلات، ڈیری فارمز کی شہر سے باہر منتقلی، لولانگ ڈیم کو صوبائی ٹیکسوں سے استثنیٰ اور بلوچستان لیویز کے انضمام کے بعد پولیس تھانوں کے دائرۂ اختیار کے تعین کی منظوری بھی دی گئی۔

شاہد رند کے مطابق ان فیصلوں کا مقصد تعلیم، صحت، معیشت، شہری سہولیات اور انتظامی نظام میں بہتری لانا اور سرکاری خدمات کو عوام کے لیے آسان بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp