مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور اطلاعات و نشریات کے پارلیمانی سیکریٹری دانیال چوہدری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کو دہشتگردوں کی ’بی ٹیم‘ اور سہولت کار قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے آئندہ چند روز میں ایک مضبوط آئینی میکانزم لایا جا رہا ہے۔
’وی نیوز‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں دانیال چوہدری نے پی ٹی آئی کے موجودہ احتجاجی سلسلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا سے آنے والے نام نہاد ’سیلاب‘ کو پوری قوم دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ ’ان کے مارچ میں کبھی 500 اور کبھی ہزار یا اڑھائی ہزار لوگ ہوتے ہیں۔ تعداد چاہے جو بھی ہو، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ کوئی لانگ مارچ نہیں بلکہ محض ایک سیاسی مہم ہے جو ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں گھوم رہی ہے۔‘
پی ٹی آئی قیادت پر طنز کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کا حال ’نان کسٹم پیڈ‘ گاڑی جیسا ہو گیا ہے جو مردان سے آگے نہیں آ سکتی۔
یہ جتنا بھی زور لگا لیں، اٹک سے پیچھے ہی رہیں گے اور دوبارہ اقتدار میں آنے کی ان کی خواہش محض ایک خواہش ہی رہے گی۔
دہشتگردی اصل مسئلہ ہے، دھرنا نہیں
پارلیمانی سیکریٹری نے واضح کیا کہ اس وقت ریاست کا اصل اور بنیادی مسئلہ پی ٹی آئی کا دھرنا یا اس کی تعداد نہیں، بلکہ دہشتگردی کی وہ لہر ہے جس نے خیبر پختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو شہید اور اغوا کیا جا رہا ہے، لیکن صوبے کے وزیراعلیٰ اور نام نہاد لیڈرز شہدا کے جنازوں میں شرکت تک گوارا نہیں کرتے۔
انہوں نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ڈیوٹی پر موجود ایس ایچ او داؤد خان کو شہید کیا گیا، جبکہ نوشہرہ شہر سے نعیم اللہ، نور اسلام اور عامر سمیت دیگر پولیس افسران کو اغوا کیا گیا، لیکن پی ٹی آئی ان حملہ آوروں کو دہشتگرد یا فتنۃ الخوارج ماننے سے انکاری ہے۔‘
شہدا کے خون پر سیاست اور مذاکرات سے دو ٹوک انکار
مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر دانیال چوہدری نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اب بات چیت کا وقت گزر چکا ہے اور پانی پل سے نیچے بہہ چکا ہے۔
انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر پی ٹی آئی یہ شرط رکھے کہ ہم اپنے جوانوں کے قاتلوں کو دہشتگرد تب کہیں گے جب آپ ہماری اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائیں گے یا ہمارے مطالبات تسلیم کریں گے، تو پھر ایسے لوگوں سے مذاکرات کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
جو ہمارے بچوں کو مارنے والوں کو دہشتگرد نہ کہے، ہم انہیں چائے نہیں پلا سکتے۔‘
15 سالہ ناکامی اور شہدا کی توہین
خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی 15 سال سے صوبے میں برسرِ اقتدار ہے لیکن انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں کیا۔
وزیراعلیٰ نے ایپکس کمیٹی کے صرف ایک اجلاس میں شرکت کی۔ دانیال چوہدری نے کہا کہ یہ ملک و قوم کے کیسے ہمدرد ہیں کہ ’5 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں جب کسٹم اور پولیس کے 5 افسران شہید ہو رہے تھے، یہ لوگ احتجاج میں گاڑیوں کے سامنے ناچ رہے تھے۔ یہ ان کی ترجیحات ہیں، یہ اپنے ہی لوگوں کے خون پر سودا کر کے سیاست چمکا رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل کی وارننگ، پی ٹی آئی لانگ مارچ منسوخ؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھارت کو منہ توڑ جواب
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد گورنر راج ہو یا کوئی اور آئینی قدم، عوام اور بالخصوص صوبے کے باسیوں کی واحد خواہش یہی ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے، انہیں علاقے سے نکالا جائے اور معصوم بچوں کے قاتلوں کو کھلے عام دہشتگرد قرار دیا جائے۔
وفاق کی جانب سے کے پی حکومت کو دیے گئے الٹی میٹم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز نے اپنا پیغام اسی دن دے دیا تھا جب صوبائی حکومت نے شہدا کے خون کی قیمت لگانا شروع کی تھی۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں 19 افغان دہشتگرد پکڑے گئے اور افغانستان کی جانب سے 12 سے 15 ڈرون حملے ہوئے، مگر صوبائی حکومت نے ایک بار بھی اس کی مذمت نہیں کی۔
الٹا وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ وہ صوبے کی پالیسی کے لیے پاکستان کے بجائے افغانستان کی طرف دیکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت معاملات حل کرنے کے بجائے حالات کو مزید خراب کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس دن صوبائی حکومت نے یہ مؤقف اپنایا کہ ان کی پالیسی کا انحصار پاکستان کی بجائے افغانستان پر ہوگا، اسی دن انہیں واضح پیغام دے دیا گیا تھا، تاہم تاخیر کا نقصان حالات کو مزید بگاڑ رہا ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل، آئینی میکانزم کی تیاری
متبادل لائحہ عمل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر دانیال چوہدری نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت کا ایجنڈا صرف ایک نکاتی ہے اور وہ ہے دہشتگردی کا خاتمہ۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہماری لڑائی کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہے۔ جو ریاست کے ساتھ نہیں کھڑا، اسے دہشتگردوں کی ’بی ٹیم‘ ہی سمجھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:علی امین گنڈاپور کی سہیل آفریدی کو للکار، دونوں کے درمیان لڑائی کیوں، کب اور کیسے شروع ہوئی؟
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے اشارہ دیا کہ حکومت کے پاس ہمیشہ متبادل حکمت عملی موجود ہوتی ہے۔ ’اگر کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے تو اس سے حقیقت نہیں بدلتی۔ ہم مزید 15 سال انتظار نہیں کر سکتے۔
لاشیں گر رہی ہیں اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ ان شا اللہ اگلے چند روز میں آپ دیکھیں گے کہ ایک ایسا آئینی میکانزم سامنے لایا جائے گا جو عوام کو تحفظ دے گا، دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا اور صوبے کو مضبوط کرے گا۔ آئین ہمیں اس بات کی مکمل اجازت دیتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی حالتِ زار سب کے سامنے ہے، روز بچے اور جوان شہید ہو رہے ہیں، اور جو لوگ ان شہادتوں کا ثبوت مانگتے ہیں ان کے سامنے شہدا کی لاشوں سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔
دانیال چوہدری کے مطابق منصوبہ بندی ہمیشہ حکومتوں کے پاس موجود ہوتی ہے اور اب اس پر عمل درآمد کا وقت آ چکا ہے کیونکہ معاملات پہلے ہی حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔













