بھارت کی جانب سے 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کی خواہش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی کھیلوں کے انعقاد کے خواب دیکھنے سے پہلے بھارتی حکومت کو اپنے کروڑوں شہریوں کی بنیادی ضروریات، صحت، غذائیت اور انسانی وقار کے مسائل حل کرنے چاہییں۔
مزید پڑھیں:برکس سربراہی اجلاس: مودی سرکار نے عالمی رہنماؤں کو صرف سبزیاں کھانے پر مجبور کیا
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی 2025 کی انسانی ترقی رپورٹ کے مطابق بھارت 193 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح عالمی غذائی قلت اشاریے 2025 میں بھارت 123 ممالک میں 102ویں نمبر پر رہا، جبکہ ملک میں بھوک اور غذائی قلت کی صورت حال کو سنگین قرار دیا گیا ہے۔
🚨🕋🇮🇳 India Uttar Pradesh Police Beaten Muslims To Pray Namaz In India Situation Hatred Towards Muslims Celebrated Gaza & Muslims Genocide now doing these Henious Destination Potray as Secular Largest Democracy ..
#LegacyOfHonourCDF https://t.co/tk5oH7DhEm— Inshal Siddiqui🤍🇵🇰✨ (@InshalSid123) October 4, 2026
بھارت کو فضائی آلودگی، صفائی کے ناقص انتظامات، صحت کی سہولتوں تک رسائی اور خواتین کے تحفظ جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ان حالات میں اولمپکس کی میزبانی کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا عالمی کھیلوں کے وقار کو ترجیح دینے سے پہلے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا زیادہ ضروری نہیں؟
عالمی مبصرین کے تنقیدی مؤقف میں بھارتی حکومت پر اقلیتوں کے حقوق محدود کرنے کے الزامات اور خواتین کے خلاف جرائم پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ زور دیا گیا ہے کہ اولمپکس جیسے عالمی ایونٹ کی میزبانی کے عزائم کے ساتھ عوام کی فلاح، تحفظ، بنیادی سہولتوں اور انسانی حقوق کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔
Hindus are allowed to defecate and urinate in the Ganga River, but Muslims are not allowed to wash clothes.
Secular India 🇮🇳 😂 https://t.co/f87unpXMqu— کیڑےمکوڑے (@Form_45) July 2, 2026
مودی سرکار بنیادی سہولیات سے محروم عوام اور عدم تحفظ کا شکار اکثریتی مسلم کمیونٹی کی مشکلات سمیت دہشتگردی اور نقص امن سمیت دیگر گونا گوں مسائل کے ہوتے ہوئے اولمپکس کی میزبانی کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے۔














