مودی سرکار کا پھر کڑا امتحان شروع، ’کاکروچ‘ پارٹی نے ایک اور اعلیٰ عہدیدار کا استعفیٰ مانگ لیا، شدید احتجاج کا اعلان

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں ووٹر لسٹوں میں مبینہ ہیر پھیر پر ’کاکروچ‘ یوتھ موومنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

بھارتی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے پلیٹ فارم سے جمعرات کو نوجوانوں اور اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر احتجاج اور الیکشن کمیشن کے دفاتر کے گھیراؤ کی سخت وارننگ دی ہے۔

ووٹر لسٹوں میں مبینہ دھاندلی کا انکشاف

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی حالیہ رپورٹ نے ملکی سیاست میں نیا بھونچال برپا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران 2 الیکشن کمشنرز نے کم از کم 14 مرتبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے سامنے ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں پر اعتراضات اٹھائے۔

یہ بھی پڑھیں:راجستھان میں اسکول کے معائنے کے لیے جانے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ٹیم پر حملہ، بی جے پی پر الزام؟

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں یہ تبدیلیاں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہیں۔

اپوزیشن طویل عرصے سے یہ شکایات کر رہی ہے کہ لاکھوں ووٹرز کے نام بغیر بتائے حذف کیے گئے اور بی جے پی کو فائدہ دینے کے لیے بغیر تصدیق نئے ووٹرز شامل کیے گئے۔

اپوزیشن اور یوتھ موومنٹ کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

اس رپورٹ کے سامنے آتے ہی اپوزیشن نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے ہیں۔

جمعرات کو ’کاکروچ‘ موومنٹ کے بانی ابھیجیت ڈِپکے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وارننگ دی کہ اگر گیانیش کمار 48 گھنٹوں میں مستعفی نہ ہوئے تو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ملک گیر تحریک کا آغاز کرے گی۔

دوسری جانب مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی جمعہ کو ملک بھر میں ریاستی الیکشن دفاتر کی طرف احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔

کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر کی گرفتاری، برطرفی اور ان کے دور میں ووٹر لسٹوں میں کی گئی تمام تبدیلیوں کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن اور حکومتی مؤقف

بھارتی الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے کام کو مکمل قانونی قرار دیا ہے۔ بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کمیشن نے کہا کہ کسی بھی ادارے میں حتمی فیصلے سے قبل اراکین کے درمیان اختلافِ رائے ایک معمول کا حصہ ہے، جسے فیصلہ سازی کے عمل سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔

ادھر بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے الیکشن کمیشن کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی آئینی ادارہ آمریت کے تحت کام نہیں کر رہا، بلکہ جمہوری انداز میں چل رہا ہے۔

مزید پڑھیں:مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل انتخابات ہارنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے خلاف منفی مہم چلائی جا رہی ہے۔

’کاکروچ‘ موومنٹ کی کامیابیاں

واضح رہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی یہ نوجوانوں کی تحریک جولائی میں اپنے کامیاب مظاہروں کے بعد شہرت کی بلندیوں پر پہنچی تھی۔

ان مظاہروں کے نتیجے میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے اسکینڈل پر مودی کابینہ کے وزیرِ تعلیم کو بالآخر استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

واضح رہے کہ  2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ مودی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی دھچکا تھا۔ اب الیکشن کمیشن کے خلاف اس نئی تحریک نے مودی سرکار کے لیے مزید تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp