حنا پرویز بٹ کا ترکمانستان میں عالمی خواتین ڈائیلاگ سے خطاب، خواتین کے تحفظ اور بااختیاری پر زور

ہفتہ 10 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے خواتین اور بچیوں کو تشدد اور امتیاز سے تحفظ فراہم کرنے، تعلیم اور معاشی مواقع تک رسائی بڑھانے اور فیصلہ سازی و قیامِ امن کے عمل میں خواتین کی بامعنی شرکت یقینی بنانے کے لیے عالمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

ترکمانستان کے شہر عوازا میں منعقدہ بین الاقوامی خواتین ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پنجاب کے عوام کی جانب سے ترکمانستان کی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔

انہوں نے ترکمانستان کو آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے پاکستان اور ترکمانستان کے دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔

حنا پرویز بٹ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں اور حقیقی بااختیاری کے لیے تحفظ، وقار اور مساوی شرکت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امن محض مسلح تنازعے کی عدم موجودگی کا نام نہیں، بلکہ اسے گھر، اسکول، کام کی جگہ، عوامی مقامات اور ڈیجیٹل دنیا میں بھی محسوس ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تشدد، ہراسگی یا محرومی کے خطرے میں زندگی گزارنے والی خواتین اپنے حقوق کا مکمل استعمال اور صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کرسکتیں۔ خواتین، امن اور سلامتی کے عالمی ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 5 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کا تحفظ، شرکت اور قیادت پائیدار ترقی اور امن کی کوششوں کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔

خواتین کے تحفظ کے لیے پنجاب کا مربوط نظام

چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے خواتین کے تحفظ کے لیے پنجاب میں قائم مربوط نظام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ویمن پروٹیکشن سینٹرز اور چوبیس گھنٹے فعال خواتین کی ہیلپ لائن کے ذریعے متاثرہ خواتین کو ریسکیو رابطہ کاری، قانونی معاونت، طبی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور محفوظ رہائش کے لیے متعلقہ اداروں سے منسلک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ قوانین ضروری ہیں، تاہم مؤثر اداروں، تربیت یافتہ عملے، قابل رسائی خدمات، احتساب اور عوامی آگاہی کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ تشدد کی روک تھام کا آغاز تعلیم، احترام اور معاشی مواقع سے ہوتا ہے تاکہ ہر بچی کو معلوم ہو کہ اس کی حفاظت، آواز اور خواب اہم ہیں۔

حنا پرویز بٹ نے خواتین کی معاشی اور عوامی زندگی میں شرکت بڑھانے کے لیے محفوظ کام کی جگہوں، ڈے کیئر سہولیات، ہنر اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور ملازمت پیشہ خواتین کے لیے محفوظ رہائش جیسے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔

ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کا تحفظ ضروری ہے، حنا پرویز بٹ

ڈیجیٹل ماحول کا ذکر کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے کہاکہ ٹیکنالوجی نے تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کے مواقع بڑھائے ہیں، تاہم ہراسگی، استحصال اور بدسلوکی کی نئی صورتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل دور میں خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ڈیجیٹل تحفظ، رازداری، قانونی آگاہی اور مؤثر ادارہ جاتی ردعمل بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ خواتین صرف امن سے فائدہ اٹھانے والی نہیں بلکہ امن کی معمار ہیں۔ قانون سازی، سرکاری اداروں، معاشرتی قیادت، معاشی فیصلہ سازی اور قیامِ امن کے عمل میں خواتین کی آواز ضروری ہے۔

ترکمانستان کو 2028 کو عالمی قانون کا سال قرار دینے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی قانون کے اصول قومی اداروں اور عملی اقدامات میں بھی نظر آنے چاہییں تاکہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

حنا پرویز بٹ نے تین ترجیحات پیش کیں جن میں خواتین اور بچیوں کو تشدد اور امتیاز سے تحفظ فراہم کرنا، تعلیم، صحت، ہنر اور معاشی مواقع تک رسائی بڑھانا اور فیصلہ سازی و قیامِ امن میں خواتین کی مکمل اور بامعنی شرکت یقینی بنانا شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ عزم کو عملی تعاون، مضبوط اداروں اور قابلِ پیمائش پیش رفت میں تبدیل کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp