ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت نے منشیات برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کرتے ہوئے ویمن جیل سے رہائی کا حکم دے دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزمہ انمول عرف پنکی کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے۔
سماعت کے دوران ملزمہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ پراسیکیوشن ملزمہ کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی، جس پر عدالت نے بریت کی درخواست منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیے انمول عرف پنکی کا منشیات نیٹ ورک بین الاقوامی روابط تک پھیل گیا، غیر ملکیوں کے ملوث ہونے کا انکشاف
واضح رہے کہ اسی مقدمے میں نامزد ملزمہ کا بھائی ناصر پہلے ہی عدالت سے بری ہوچکا ہے۔ انمول عرف پنکی کے خلاف 2018 میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
انمول عرف پنکی کو کراچی میں منشیات کی خرید و فروخت اور سپلائی کا نیٹ ورک چلانے کے الزامات کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا تھا۔ میڈیا اور تفتیشی ادارے اسے ’کوکین کوئین‘ کے نام سے بھی پکارتے رہے۔ پولیس اور حساس اداروں نے ملزمہ پر کراچی کے پوش علاقوں سمیت شہر کے مختلف حصوں میں منشیات کی بڑے پیمانے پر سپلائی اور بین الصوبائی منشیات فروشوں سے روابط کے الزامات کے تحت متعدد مقدمات قائم کیے تھے۔
تاہم، مختلف مقدمات میں قانونی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جانے کے باعث ملزمہ کو ریلیف ملتا رہا۔ اس سے قبل بھی اسے گزری تھانے میں درج مقدمے سمیت دیگر مقدمات میں بریت مل چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے شمعون عباسی نے منشیات فروش انمول پنکی پر ڈراما بنانے کی مخالفت کردی، وجہ کیا بتائی؟
تازہ فیصلے کے بعد انمول عرف پنکی کے خلاف درج 22 مقدمات میں سے اب تک 5 میں اسے بری کیا جاچکا ہے، جبکہ 17 مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ ان مقدمات کے باعث ملزمہ تاحال عدالتی تحویل میں جیل میں ہے، تاہم اس کی رہائی کا انحصار دیگر مقدمات کی صورتِ حال پر ہوگا۔













