خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے تناظر میں صوبائی حکومت کی کارکردگی، وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون اور امن و امان کے لیے مختص وسائل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت سے سوال کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے بڑھتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون کی غرض سے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ، سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کہاں ہے؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ شہدا کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی، متاثرہ علاقوں کے دوروں اور امن و امان کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی معاملات پر زیادہ توجہ کیوں دی گئی؟
صوبائی حکومت سے یہ بھی سوال کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے، عوام کے تحفظ اور شہداء کے خاندانوں کی مدد کے لیے کتنی توجہ دی گئی اور ان مقاصد کے لیے کتنے وسائل مختص کیے گئے۔














