خیبر پختونخوا میں نافذ کیے گئے گورنر راج کی آئینی و قانونی توثیق کے لیے پارلیمنٹ (قومی اسمبلی و سینیٹ) کا اہم ترین مشترکہ اجلاس آج صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس مشترکہ اجلاس میں صوبے میں گورنر راج کی توسیع و توثیق کے لیے باقاعدہ قرار داد پیش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران امن و امان کی بگاڑ، بدامنی اور سرحد پار سے بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی لہر کے تناظر میں وفاقی حکومت نے آئینی اقدامات کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کیا تھا، تاکہ ریاست کی حاکمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:مراد سعید کی لوکیشن افغانستان کی آرہی ہے، مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار بھی وہی ہیں، رانا ثنااللہ
اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر گزشتہ روز قومی اسمبلی اور ایوانِ بالا (سینیٹ) کے الگ الگ اجلاسوں میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی جا چکی ہے۔
گزشتہ روز ایوان کے اندر شدید سیاسی گرم جوشی اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ قومی اسمبلی میں جہاں اپوزیشن نے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں زبردست احتجاج کیا، وہی سینیٹ کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
دریں اثنا قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر ایاز صادق نے کشیدہ سیاسی ماحول کو سازگار بنانے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے۔ اسی کے ساتھ اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے گرفتار اراکینِ اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل اور داوڑ کنڈی کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کر دیے ہیں تاکہ وہ پارلیمانی عمل کا حصہ بن سکیں۔














