پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام آج بھی روزانہ دہشتگردی کی آگ میں جل رہے ہیں، جبکہ سابق صوبائی حکومت کی دانستہ غفلت اور سیاسی ترجیحات نے عوام کے دکھ اور مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔
ایک بیان میں ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 2008 سے دہشتگردی کی ایک نہ ختم ہونے والی لہر کی لپیٹ میں ہے، جس کے نتیجے میں ان کے اپنے گھر سمیت بے شمار خاندان اجڑ چکے ہیں۔
2013 سے لے کر اب تک 47،000 افراد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مارے گئے ہیں جس میں ہر طبقہ فکر کے لوگ ہیں۔ دہشتگردی کے اصلی شکار شہداء کے لواحقین ہوتے ہیں کیونکہ ان کے لیے بہت مشکلات ہوتی ہیں، ثمر ہارون بلور https://t.co/H2pQnOKotO
— WE News (@WENewsPk) October 11, 2026
انہوں نے کہاکہ سیاسی رسہ کشی سے بالاتر ہو کر دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت اور تقاضوں کو سنجیدگی سے سمجھنے کا وقت آگیا ہے، تاکہ مزید کسی خاندان کو اپنے پیاروں سے محروم نہ ہونا پڑے اور کوئی دوسرا گھر اجڑنے سے بچ سکے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کردیا ہے، جس کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں نظام حکومت چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس کی سربراہی گورنر فیصل کریم کنڈی کریں گے۔
ایڈوائزری کونسل میں مسلم لیگ ن کی رہنما ثمر ہارون بلور کو مشیر اطلاعات کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔













