ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کے حالات کیسے بہتر ہوں گے؟

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کو دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں رانا ثنااللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور بیرسٹر دانیال چوہدری نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے سول قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے، پولیس اور بیوروکریسی میں ضروری تبدیلیاں لانے اور دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت معطل، صوبائی معاملات چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل اور خصوصی سیکرٹریٹ قائم کرنے کا اعلان

ان رہنماؤں کے مطابق وفاقی حکومت کا مقصد کسی سیاسی جماعت کے عوامی مینڈیٹ کو ختم کرنا یا سیاسی مفادات حاصل کرنا نہیں، بلکہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے نجات دلانا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث امن و امان کی صورتحال تشویش ناک حد تک خراب ہو چکی تھی۔

ان کے مطابق دہشتگردی سے نمٹنے کی حکمت عملی پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات اور باہمی تعاون کے فقدان نے مسائل کے حل میں مزید مشکلات پیدا کیں، جس کے بعد صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے تحت صوبے کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

دہشتگردی کا خاتمہ اور سول اداروں کی مضبوطی اولین ترجیح ہے، رانا ثنا اللہ

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو سول قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانا اور انہیں مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج دہشتگردوں کے خلاف جس انداز میں کارروائیاں کر رہی ہے، وہ سلسلہ بھی جاری رہنا چاہیے تاکہ دہشتگردوں سے متاثرہ علاقوں کو کلیئر کرنے کا عمل مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

رانا ثنااللہ نے صوبائی حکومت کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی حکمت عملی میں صوبائی حکومت کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت اس معاملے میں وفاقی حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں، ڈرون حملوں اور مذاکرات سے متعلق صوبائی حکومت کے مؤقف کے باعث قومی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے کی کوششوں میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کی بات کرنے سے پہلے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد کیا ہوگا، بالخصوص ایسے حالات میں جب دہشتگردی کے واقعات میں شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہوں۔

ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں اور قومی سلامتی جیسے اہم معاملے میں سیاسی اختلافات کو رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔

رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی سے وابستہ بعض افراد پر بھتہ خوری، منشیات مافیا سے روابط اور ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان الزامات کے شواہد موجود ہیں، تاہم گفتگو میں نہ تو ان الزامات کی آزادانہ تصدیق پیش کی گئی اور نہ ہی متعلقہ افراد کا مؤقف شامل تھا۔

دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے باعث ایمرجنسی کا فیصلہ کیا گیا، طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بعد خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی تھی اور 2018 اور 2019 تک امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔ تاہم ان کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوا، جس کے باعث خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کا بنیادی مقصد دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہے اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ بھی اسی مقصد کے تحت کیا گیا ہے، تاکہ مؤثر اقدامات کے ذریعے صوبے کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ان کے مطابق وفاقی حکومت کا اس فیصلے کے پیچھے کوئی دوسرا سیاسی ایجنڈا نہیں، بلکہ اس کا واحد مقصد خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے محفوظ بنانا ہے، تاکہ صوبے کے شہری بھی ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کی طرح پرامن ماحول میں زندگی گزار سکیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ جب ملک کے دیگر حصوں میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تو ان کے صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔

ان کے بقول شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے، جس کے پیش نظر وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

طلال چوہدری نے مزید کہاکہ حکومت کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ یا احتجاج سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم موجودہ حالات میں تمام تر توجہ دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے کے عوام کے تحفظ پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح سیاسی سرگرمیوں کے بجائے امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

پولیس اور بیوروکریسی میں تبدیلیوں سے انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کا منصوبہ، بیرسٹر دانیال چوہدری

وفاقی وزیر مملکت اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ آئین کے تحت اگر کوئی صوبائی حکومت دہشتگردی پر قابو پانے یا عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے میں ناکام ہو جائے تو وفاقی حکومت کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

ان کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا مقصد پی ٹی آئی کے عوامی مینڈیٹ کو ختم کرنا یا کسی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کرنا نہیں، بلکہ دہشتگردی کا خاتمہ اور انتظامی نظام میں بہتری لانا ہے۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے خیبرپختونخوا میں گزشتہ عرصے کے دوران 2500 سے زیادہ افراد کی شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو دہشتگردی سے مؤثر تحفظ فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے انتظامی سطح پر ضروری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بیوروکریسی میں تبدیلیاں کی جائیں گی، جبکہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

ان کے مطابق وفاق اور دیگر صوبوں سے قابل اور تجربہ کار افسران کی خیبرپختونخوا میں تعیناتی پر غور کیا جائے گا، تاکہ انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے اور امن و امان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہاکہ صوبائی حکومت دہشتگردوں کو دہشتگرد قرار دینے اور ان کے خلاف واضح مؤقف اپنانے میں ناکام رہی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے جڑے دہشتگردی کے معاملات اور سرحد پار سے مبینہ معاونت کے پیش نظر بھی مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول صوبے کے عوام کو غیریقینی صورتحال میں چھوڑنے کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید فعال اور مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کو مذاکرات اور معاملات میں بہتری لانے کے لیے وقت دیا گیا تھا، تاہم ان کے مطابق اس سلسلے میں کوئی مؤثر پیش رفت نہ ہو سکی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف اپنانے اور شہدا کی قربانیوں کو تسلیم کرنے جیسے بنیادی معاملات پر بھی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو پھر مذاکرات کس بنیاد پر کیے جائیں؟

ایمرجنسی کے بعد حالات میں بہتری کیسے ممکن ہوگی؟

مسلم لیگ (ن) کے تینوں رہنماؤں کے بیانات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بہتری کے لیے کئی اہم شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

ان میں سول قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا، پولیس اور بیوروکریسی کی کارکردگی بہتر بنانا، دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں مؤثر رابطہ کاری، متاثرہ علاقوں کو کلیئر کرنے کا عمل اور صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان تعاون کو بہتر بنانا شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے انتشار سے دہشتگردی لوٹ آئی، قانون شکن مطلوب افراد کو ہر حال میں گرفتار کریں گے، طلال چوہدری

رانا ثنااللہ نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں اور سول اداروں کی مضبوطی پر زور دیا، طلال چوہدری نے ایمرجنسی کے فیصلے کو دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں عوام کے تحفظ کی کوشش قرار دیا، جبکہ بیرسٹر دانیال چوہدری نے انتظامی اصلاحات، افسران کی تعیناتی اور پولیس سمیت دیگر اداروں میں تبدیلیوں کو صوبے کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp