سوڈان میں انسانی حقوق کی تنظیم ایمرجنسی لائرز نے دعویٰ کیا ہے کہ سوڈان اور مصر کی سرحد کے قریب سونے کی ایک کان پر فضائی حملے میں کم از کم 72 مزدور ہلاک ہوگئے ہیں۔
ہفتے کو ہونے والے حملے کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد نے علاقے میں افراتفری اور تباہی کے مناظر بیان کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق، تنظیم نے حملے کا الزام مصری فضائیہ پر عائد کیا ہے، تاہم مصری فوج نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان کے تیل، سونے و دیگر قدرتی وسائل پر قابض کون؟
یہ رواں سال جبل العقیقدات کے علاقے میں سونے کی غیر رسمی کان کنی کے مقام پر دوسرا فضائی حملہ ہے۔
اس سے قبل جون میں اسی علاقے میں ایک حملے کے نتیجے میں 23 مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔
ایمرجنسی لائرز کے مطابق، ابتدائی معلومات کی بنیاد پر حالیہ حملے میں 72 شہری کان کن ہلاک ہوئے، جبکہ ہلاکتوں کی درست تعداد کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
The Sudanese group Emergency Lawyers reported that Egyptian fighter jets targeted civilian miners on Saturday at a site in the Jabal al-Uqaydat area, which it said lies inside Sudanese territory.
It put the preliminary death toll at 72, with verification still ongoing, and… pic.twitter.com/4CGCAb0liM
— Vitamvivere (@Vitamvivere) October 12, 2026
کان کن عبدالعزیز یوسف نے بتایا کہ ہفتے کی صبح تقریباً 8 بجے ایک طیارہ نمودار ہوا اور اس نے 5 مرتبہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔
ان کے مطابق، مزید حملے کے خوف سے لوگ پہاڑ کی جانب بھاگ گئے۔
ایک اور زندہ بچ جانے والے شخص شرف علی نے بتایا کہ حملے کے وقت دور افتادہ مقام پر ہزاروں افراد کام کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں: سوڈان ڈرون حملے میں 28 افراد ہلاک، خانہ جنگی شدت اختیار کر گئی
ان کے بقول، حملے کے بعد لوگ مختلف سمتوں میں منتشر ہوگئے، جس کے باعث ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہوگیا۔
دونوں افراد نے فرار ہوتے وقت زمین پر لاشیں دیکھنے کی تصدیق کی، جبکہ خدشہ ظاہر کیا کہ مزید افراد ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں۔
سوڈان اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے پر تنازع ہے اور دونوں ممالک معدنی وسائل سے مالا مال حلايب مثلث پر دعویٰ کرتے ہیں۔
At least 72 Sudanese artisanal miners killed in strike, rights monitor says https://t.co/HlP5FIMquh https://t.co/HlP5FIMquh
— Reuters (@Reuters) October 11, 2026
ایمرجنسی لائرز کا کہنا ہے کہ حملہ سوڈانی علاقے میں ہوا، تنظیم نے الزام لگایا کہ سرحدی علاقوں میں معدنی ذخائر پر حملے سوڈان کے قدرتی وسائل پر کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب، مصری فوج نے جون میں کہا تھا کہ اس نے اپنی حدود میں غیر قانونی سونے کی کان کنی اور اسلحے کی اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی، جس کے دوران 223 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں 136 غیر ملکی بھی شامل تھے۔
مزید پڑھیں: سوڈان میں باغیوں کا پاور پلانٹ پر حملہ، متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے
اپریل 2023 سے جاری سوڈانی جنگ نے شدید انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ سونے کی کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی جنگ میں شریک فریقوں کی مالی معاونت بھی کرتی ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت طویل عرصے سے جاری ہے۔














